
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س) ۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن نیٹ پیپر لیک، جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف پولیس کی کارروائی اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی اور دیگر ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ پولیس کی جھڑپوں پر اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ کیا۔ اس کے سبب لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
لوک سبھا اسپیکر نے اپوزیشن سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نیٹ پیپر لیک معاملے سمیت تمام مدعوں پر چرچا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو ہموار طریقے سے چلنے دیا جائے اور چرچا کے دوران اپنی بات رکھی جائے۔ اس کے باوجود اپوزیشن کے ممبران پارلیمان اپنے مطالبات پر بضد رہے اور نعرے بازی کرتے رہے۔ مسلسل رخنہ اندازی کی وجہ سے لوک سبھا کو اجلاس شروع ہونے کے ایک منٹ بعد دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
دریں اثنا، راجیہ سبھا میں بھی کم وبیش اسی طرح کی صورتحال رہی۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین نے بار -بار اپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس جائیں اور قواعد کے مطابق بحث میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان اہم معاملات پر بحث کے لیے دستیاب ہے، لیکن اپوزیشن ممبران پارلیمان نے ہنگامہ آرائی جاری رکھی۔ شور اور نعرے بازی کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی بھی منٹوں میں دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد