
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س)۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن اپوزیشن نے نیٹ کا سوالیہ پرچہ لیک ہونے، جنتر منتر پر طلباء کے خلاف پولیس کارروائی اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور دیگر ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ جھڑپ کو لے کر دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ کیا۔ مختصر التوا کے بعد دوپہر 12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، لیکن اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا، جس کے نتیجے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردی گئی۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا میں کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت غیر حساس رویہ اپنا رہی ہے اور اپوزیشن کے مطالبات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جواب دیا کہ حکومت نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر بات کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور نوجوانوں کے مستقبل پر بامعنی بحث چاہتی ہے۔
سیشن شروع ہونے سے پہلے کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر انڈیا بلاک فلور لیڈروں کی میٹنگ ہوئی۔ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، مہوا موئترا، اور مانیکم ٹیگور سمیت کئی لیڈروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن طلبہ کے معاملے پر حکومت کو جوابدہ بنانے کے لیے جارحانہ موقف اپنائے گی۔
اس دوران حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ نے سیاہ کپڑے پہن کر پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا اور اسے ’بلیک ڈے‘ قرار دیا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سید نصیر حسین نے کہا کہ یہ احتجاج طلباء اور ارکان پارلیمنٹ کے خلاف پولیس کے استعمال کے خلاف تھا۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت دباو¿ میں ہے اور وزیر کو ہٹانے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاہ رنگ احتجاج اور غم کی علامت ہے۔
پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک میں جمہوریت محفوظ نہیں ہے اور طلبہ کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی احتجاج نہیں بلکہ ایک حقیقی مسئلہ ہے جسے ہر طالب علم، والدین اور استاد سمجھتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کر رہی ہے اور کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں اب تک 152 پیپر لیک ہوچکے ہیں، جس کی ملک کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے اور برطانوی دور حکومت میں بھی طلباء پر لاٹھی چارج کی مثال نہیں ملتی۔ سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے کہا کہ یہ 'رام راجیہ' نہیں ہے، جہاں طالب علموں کو مارا پیٹا جاتا ہے اور لڑکیوں کے کپڑے پھاڑے جاتے ہیں۔ انہوں نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی کے بارے میں صحافیوں کے سوالات پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت نوجوانوں کی آواز کو دبا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو نہیں سنا جائے گا تو کس کی آواز سنی جائے گی۔ اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ وہ طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ