
رام اللہ،22جولائی(ہ س)۔ فلسطینی تحریک فتح نے حماس کی نئی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں فلسطینی عوام کے مفاد کو ہر قسم کے جماعتی اور بیرونی مفادات پر فوقیت دے۔ فتح کا کہنا ہے کہ خلیل الحیہ کی سربراہی میں حماس کے لیے یہ ایک اہم امتحان ہے کہ آیا وہ ماضی کی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرتی ہے یا سابقہ حکمتِ عملی کو ہی جاری رکھتی ہے۔
فتح کے ترجمان عبد الفتاح دولۃ نے ایک پریس بیان میں کہا کہ خلیل الحیہ کا حماس کے سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب ہونا تنظیم کا اندرونی معاملہ ہے، تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ نئی قیادت فلسطینی عوام کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کس نوعیت کی پالیسیاں اختیار کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت کی کامیابی کا معیار کسی فرد کا نام نہیں بلکہ وہ فیصلے اور اقدامات ہیں جو فلسطینی عوام کے مفاد میں کیے جائیں۔
فتح نے اپنے بیان میں کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال نے فلسطینی کاز کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر جانی نقصان، تباہی، بے گھری اور انسانی بحران نے اس بات کو ناگزیر بنا دیا ہے کہ ماضی کی حکمتِ عملی کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ حماس کی نئی قیادت کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے قومی مفاد کو مقدم رکھے، بصورت دیگر وہ انہی پالیسیوں پر گامزن رہے گی جن کے نتائج فلسطینی عوام آج بھگت رہے ہیں۔
فتح نے بیرونی قوتوں، خصوصاً ایران، پر انحصار کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرزِ عمل سے فلسطینی کاز کو مطلوبہ فائدہ نہیں پہنچا بلکہ وہ علاقائی تنازعات کا حصہ بنتا چلا گیا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام سے متعلق تمام فیصلے فلسطینی قیادت کی مشاورت اور فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے پلیٹ فارم کے تحت ہونے چاہییں، جسے فتح نے فلسطینی عوام کا واحد جائز نمائندہ قرار دیا۔
فتح نے خلیل الحیہ کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کوششوں سے نہ جنگ رک سکی، نہ غزہ میں جاری انسانی بحران، قتل و غارت، بے گھری اور بھوک کا خاتمہ ممکن ہو سکا۔
بیان کے اختتام پر فتح نے کہا کہ موجودہ حالات میں فلسطینی عوام کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو سیاسی اختلافات اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد کو فروغ دے، آزاد فلسطینی فیصلہ سازی کو مضبوط بنائے اور فلسطین کے قومی منصوبے کو ہر حال میں اولین ترجیح دے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan