
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س)۔ دہلی یونیورسٹی کے رجسٹرار نے تمام ڈینز، شعبہ جات کے سربراہان، کالج کے پرنسپلوں، ڈائریکٹرز، افسران اور عملے کے ارکان کو ایک جامع سرکلر جاری کیا ہے، جس کا مقصد ہندی کو بطور سرکاری زبان کے موثر نفاذ اور حکومت ہند کی سرکاری زبان کی پالیسی کی تعمیل کو یقینی بنانا ہے۔ اس سرکلر میں یونیورسٹی کے تمام دفاتر اور کالجوں میں ہندی کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
رجسٹرار نے واضح کیا کہ دہلی یونیورسٹی ایک مرکزی یونیورسٹی ہے جو 'ریجن اے' میں واقع ہے (مرکزی حکومت کی درجہ بندی کے مطابق)۔ لہذا، دفتری زبان ایکٹ (1963)، دفتری زبان کے قواعد (1976)، وزارت داخلہ کے محکمہ برائے دفتری زبان کی ہدایات اور سالانہ سرکاری زبان پروگرام (2026تا2027) کی موثر تعمیل کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
سرکلر میں حکم دیا گیا ہے کہ تمام پراسپیکٹس، انفارمیشن بلیٹن، نوٹس بورڈ، لیٹر ہیڈز، ربڑا سٹیمپ، فائل کور، نام کی تختیاں، بینرز، ہورڈنگز، شناختی کارڈز، دعوتی کارڈ، لائبریری کارڈز اور لفافوں پر پتے دو لسانی شکل میں شائع کیے جائیں، جس میں پہلے ہندی، اس کے بعد انگریزی فونٹ کا استعمال کیا جائے۔
آفیشل لینگوئج ایکٹ کے سیکشن 3(3) کے تحت جاری کردہ تمام آرڈرز، نوٹیفیکیشن، میمورنڈم، قواعد، ٹینڈر، معاہدے، انتظامی رپورٹس، پریس ریلیز اور دیگر سرکاری دستاویزات ہندی اور انگریزی دونوں میں جاری کیے جانے چاہئیں۔
سرکلر میں یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ - جرائد اور معیاری حوالہ جاتی کتابوں کو چھوڑ کر - لائبریری گرانٹ کا کم از کم 50 فیصد ہندی کتابوں، ہندی ڈیجیٹل مواد اور ترجمہ سے متعلق لٹریچر کی خریداری پر خرچ کرنے کی کوشش کی جائے۔
تمام دفتری کمپیوٹرز پر یونیکوڈ کا استعمال کرتے ہوئے ہندی ٹائپنگ کو فروغ دینے، سروس بک اور ریکارڈ میں ہندی میں اندراج کرنے اور تمام رجسٹروں کے لیے دو لسانی عنوانات کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ مزید ، 'ریجن اے' اور 'ریجن بی' سے موصولہ خطوط کا ہندی میں جواب دینے کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کے دفاتر سے انگریزی میں موصول ہونے والے خطوط کا ہندی میں جواب دینے پر زور دیا گیا ہے۔ 2026تا2027 کے سالانہ سرکاری زبان پروگرام کے تحت 'ریجن اے' کے اندر 80 فیصد نوٹ بندی اور 100 فیصد خط و کتابت ہندی میں کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ کو بطور ڈیفالٹ ہندی میں کھلنا چاہیے، جب کہ دیگر زبانوں کے لیے بھی آپشن موجود رہنا چاہیے۔ مزید، میٹنگ کے ایجنڈے اور منٹس کو ہندی میں جاری کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے اور انتظامی، اکاو¿نٹنگ اور دفتر سے متعلق دیگر کاموں میں ہندی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانا چاہیے۔
رجسٹرار نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ سرکاری زبان ہندی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ ایک انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری زبان کے قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اہلکار خود ذمہ دار ہوں گے۔
اوروبندو کالج کے پروفیسر ہنسراج سمن - جو کہ دہلی یونیورسٹی کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ اکیڈمک کونسل کے سابق رکن ہیں،نے یونیورسٹی کے اقدام کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ 'ہندی ہفتہ' اور 'ہندی فورٹنائٹ' (ہندی پکھواڑا) کا انعقاد ہر کالج میں کیا جانا چاہیے تاکہ سرکاری زبان ہندی کو مو¿ثر طریقے سے طلباءتک پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے ستمبر میں بین کالج ہندی مقابلے منعقد کرنے کا مشورہ دیا، جس میں ترجمہ، صحافت، فلم، تھیٹر، ریڈیو جاکینگ، بلاگ رائٹنگ، سوشل میڈیااور ہندی پڑھانے جیسے شعبوں کا احاطہ کیا جائے، تاکہ ہندی کو بھی روزگار کے مواقع سے جوڑا جاسکے۔
کالجوں میں سرکاری زبان (ہندی) سیل کے لیے گرانٹ بڑھانے کے لیے مرکزی حکومت پر زور دیتے ہوئے، پروفیسر سمن نے کہاکہ طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہندی دیوس، ہندی فورٹائٹ،اور ہندی سے متعلق دیگر پروگراموں جیسے پروگراموں کے ذریعے ہندی سے جڑتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے ایونٹس کو زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی ملنی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی