
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س): دہلی کے جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر جا کر مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ بات چیت جنتر منتر یا اس کے قریب کسی غیر جانبدار مقام پر ہونی چاہیے۔
سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آج صبح پولیس نے پارٹی کے نمائندوں سے رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ مرکزی وزیر جے پی نڈا ان سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے انہیں اپنی رہائش گاہ پر مدعو کیا گیا ہے، تاہم سی جے پی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔
سوربھ داس نے کہا کہ سی جے پی کا کوئی بھی نمائندہ کسی وزیر کے گھر یا دفتر نہیں جائے گا۔ ان کے مطابق جنتر منتر پر عوامی دربار لگا ہوا ہے، لہٰذا اگر حکومت واقعی مذاکرات چاہتی ہے تو وزراء کو عوام کے درمیان آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت جنتر منتر پر ہی ہونی چاہیے، تاہم اگر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وزیر وہاں نہیں آ سکتے تو سی جے پی احتجاجی مقام کے قریب کسی غیر جانبدار جگہ پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی اب مرکزی وزیر کی جانب سے جواب کی منتظر ہے۔
داس نے مزید کہا کہ حکومت کی نیت صرف رسمی بات چیت تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات پر ٹھوس فیصلے کیے جانے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی واضح اور بامقصد ایجنڈے کے بغیر مذاکرات کی دعوت دینے کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں افراد اب بھی احتجاج میں شریک ہیں اور سی جے پی کی پوری توجہ تحریک کو منظم طریقے سے جاری رکھنے پر مرکوز ہے۔ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ آیا وہ واقعی مظاہرین کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران سی جے پی کے دو رکنی وفد نے جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر جا کر انہیں ایک یادداشت پیش کی تھی۔ وفد میں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا شامل تھے۔ اس موقع پر نڈا نے سی جے پی سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد