
نیویارک، 18 جولائی (ہ س)۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل اسپین کے ہیڈ کوچ لوئیس دے لا فوئنٹے نے کہا کہ ان کی ٹیم ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی پر گہری نظر رکھے گی، لیکن انہیں روکنے کے لیے مین مارکنگ جیسی حکمت عملی کا سہارا نہیں لے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تجربے سے جانتے ہیں کہ میسی جیسے کھلاڑی کو پورے میچ میں ایک کھلاڑی کے بھروسے روکنا تقریباً ناممکن ہے۔
دے لا فوئنٹے نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ”میرا پہلی بار میسی کا سامنا اس وقت ہوا جب میں سیویلا کی نوجوان ٹیم کا کوچ تھا۔ ہم بارسلونا کھیلنے گئے تھے اور میں نے ایک نوجوان کھلاڑی کے طور پر میسی کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ”ہم نے ایک کھلاڑی کو ان کی مین مارکنگ کی ذمہ داری دی تھی لیکن 70ویں منٹ میں مجھے اس کھلاڑی کو بدلنا پڑا کیونکہ اسے ایلو کارڈ مل چکاتھا۔ اس وقت اسکور 0-0 تھا لیکن اگلے 15 منٹ میں میسی نے ہمارے خلاف چار گول کر دیے۔“
انہوں نے واضح کیا ” اس لئے اس بار ہم مین مارکنگ نہیں کریں گے۔ ہمیں ہر وقت چوکنا رہنا ہوگا اور یقینی طور پر میسی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔“39 سالہ میسی کی تعریف کرتے ہوئے ہسپانوی کوچ نے کہا، ”میسی ایک منفرد کھلاڑی ہیں۔ وہ نوجوان کھلاڑیوں کے لئے اپنے رویے اور اسپورٹس مین شپ کی وجہ سے باعث ترغیب ہیں۔ خاص طور پر اس عمر میں جس طرح کا ورلڈ کپ وہ کھیل رہے ہیں، وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔“
ا فائنل میں ہسپانوی کوچ کا مقابلہ ارجنٹینا کے ہیڈ کوچ لیونل اسکالونی سے بھی ہوگا۔ دونوں کی دوستی 2017 میں ہوئی تھی، جب اسکالونی اپنے پروفیشنل کوچنگ لائسنس کے لیے پڑھائی کر رہے تھے اور دے لا فوئنٹے ان کے تربیت دہندہ تھے۔
ارجنٹینا کے کھیل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر دے لا فوئنٹے نے کہا،”اوہ، نہیں... بالکل نہیں۔ میں کبھی بھی ایسا کہنے کی ہمت نہیں کروں گا۔ میں ارجنٹینا کی اس ٹیم کے لیے بے پناہ احترام کرتا ہوں۔“
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ورلڈ کپ جیتا ہے، دو کوپا امریکہخطاب جیتے ہیں، فائنلسیما جیتا ہے اور ٹیم کی کمان میرے قریبی دوست اسکالونی کے ہاتھوں میں ہے ۔ میرے دل میں ان کے لیے احترام کے سوا کچھ نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ”میرا خیال ہے کہ اسپین اور ارجنٹینا، دونوں ایک ایسی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گے جہاں ٹیلنٹ اور بہترین فٹ بال مقدم ہو گا۔“
ورلڈ کپ فائنل میں ہونے والے خصوصی ہاف ٹائم شو کی وجہ سے ہاف ٹائم کا وقفہ معمول کے 15 کے بجائے تقریباً 30 منٹ کا ہو گا۔ دے لافوئنٹے نے اس سلسلے میں کہا، ”میرے خیال میں جو چیزیں آج ہمارے لیے غیر معمولی لگتی ہیں، جیسے ہائیڈریشن بریک یا 30 منٹ کا ہاف ٹائم، ہو سکتا ہے کہ اگلے 30 برسوں میں فٹ بال کا معمول کا حصہ بن جائیں۔“
انہوں نے کہا”شاید فٹ بال اس سمت میں ترقی کر رہا ہے۔ ہمیں نہیں علم کہ مستقبل کیا ہوگا، لیکن جو بھی ہے، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ہمیں اس سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔“
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد