بین الاقوامی جبری وصولی معاملہ میں پنجاب پولیس کا انسپکٹر گرفتار، ایف بی آئی کی تحقیقات میں آیا تھا نام
۔ ہوشیارپور کے سابق تھانیدار گرِندرجیت سنگھ ناگرا پر امریکہ میں مقیم بھارتی نژاد خاندان سے 4 لاکھ ڈالر کی جبری وصولی کی سازش کا الزام
ਇੰਸਪੈਕਟਰ ਗੁਰਿੰਦਰਜੀਤ ਸਿੰਘ ਨਾਗਰਾ ਦੀ ਫਾਈਲ ਫੋਟੋ।


ہوشیارپور، 18 جولائی (ہ س)۔ پنجاب پولیس نے ہوشیارپور کے ٹانڈا تھانے کے سابق انچارج اور انسپکٹر گرِندرجیت سنگھ ناگرا کو بین الاقوامی جبری وصولی (ایکسٹورشن) کے ایک معاملے میں گرفتار کر لیا ہے۔ ناگرا کا نام امریکہ کی تحقیقاتی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی جانب سے اس سال فروری میں بے نقاب کیے گئے ایک بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک کی تحقیقات میں سامنے آیا تھا۔

ایف بی آئی نے 7 فروری کو ناگرا کو ایسے گروہ سے وابستہ قرار دیا تھا جس پر امریکہ میں مقیم ایک بھارتی نژاد خاندان سے 4 لاکھ ڈالر کی جبری وصولی کی سازش رچنے کا الزام ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، ناگرا نے مبینہ طور پر لارنس بشنوئی اور جگّو بھگوان پوریا گینگ کے ارکان کے ساتھ مل کر اس سازش کو عملی جامہ پہنانے میں کردار ادا کیا۔

معاملے میں نام سامنے آنے کے بعد ہوشیارپور کے اس وقت کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے گرِندرجیت سنگھ ناگرا کا فوری طور پر تبادلہ کر کے انہیں پولیس لائنز بھیج دیا تھا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کے مطابق پنجاب پولیس کے انسپکٹر گرِندرجیت سنگھ ناگرا امریکہ میں مقیم ایک بھارتی نژاد خاندان سے 16 لاکھ روپے کی غیرقانونی رشوت (غیرقانونی معاوضہ) طلب کرنے اور وصول کرنے کے معاملے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

کافی شواہد جمع کیے جانے کے بعد انسپکٹر گرِندرجیت سنگھ ناگرا کو تھانہ ٹانڈا، ضلع ہوشیارپور میں درج ایف آئی آر میں باقاعدہ ملزم نامزد کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں متعلقہ دائرۂ اختیار کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں پولیس پوری سازش اور اس میں شامل دیگر افراد کے کردار کا پتہ لگانے کے لیے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرے گی۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انسپکٹر گرِندرجیت سنگھ ناگرا کو فوری اثر سے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

ناگرا کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل ہی ایف بی آئی نے بھارت سے تعلق رکھنے والے گینگسٹر نتیش کوشل عرف لالا کو گرفتار کیا ہے۔ ایف بی آئی کی موسٹ وانٹیڈ فہرست میں شامل کیے جانے کے صرف دو دن بعد اسے پکڑا گیا۔ یہ کارروائی ایف بی آئی کے آپریشن ہارڈ بال کے تحت انجام دی گئی۔

لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں پیش کیے گئے 44 صفحات پر مشتمل فردِ جرم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جگّو بھگوان پوریا گینگ کے ارکان بھارت میں بعض قتل کی وارداتیں انجام دینے کے لیے محض 20 ہزار روپے تک میں تیار ہو جاتے تھے۔ فردِ جرم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرِندرجیت سنگھ ناگرا نے ٹانڈا تھانے کے ایس ایچ او کی حیثیت سے گینگ کے ساتھ مل کر لاس اینجلس میں مقیم ایک بھارتی نژاد خاندان سے 4 لاکھ ڈالر کی جبری وصولی کی سازش رچی اور پنجاب میں ان کے رشتہ داروں کو جھوٹے فوجداری مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دیں۔

ایف بی آئی کے مطابق، یہ بین الاقوامی نیٹ ورک قتل کے لیے سپاری، جبری وصولی، منشیات کی اسمگلنگ، غیرقانونی اسلحہ کی فراہمی، اغوا اور دیگر منظم جرائم میں ملوث تھا۔ اس کا نیٹ ورک بھارت کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک پھیلا ہوا تھا۔

تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق، اب تک اس معاملے میں 24 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران تقریباً ایک ہزار کلوگرام کوکین، ایک کلوگرام ہیروئن، متعدد ہتھیار اور نقد رقم برآمد کی گئی ہے۔ تاہم اس نیٹ ورک سے وابستہ کئی ملزمان اب بھی مفرور بتائے جا رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

----

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande