ملک کے پہلے نجی سیٹلائٹ کا لانچ آج، سری ہری کوٹا کا ستیش دھون خلائی مرکز گواہ بنے گا
ملک کے پہلے نجی سیٹلائٹ کا لانچ آج، سری ہری کوٹا کا ستیش دھون خلائی مرکز گواہ بنے گا سری ہری کوٹا، 18 جولائی (ہ س)۔ ہندوستان میں پہلی بار نجی کمپنی اسکائی روٹ ایرواسپیس آج اپنے دیسی ساختہ سیٹلائٹ کو لانچ کرنے جا رہی ہے۔ اسکائی روٹ ایرواسپیس حیدر
وکرم1 یہی ہے۔ فوٹو انٹرنیٹ میڈیا


ملک کے پہلے نجی سیٹلائٹ کا لانچ آج، سری ہری کوٹا کا ستیش دھون خلائی مرکز گواہ بنے گا

سری ہری کوٹا، 18 جولائی (ہ س)۔ ہندوستان میں پہلی بار نجی کمپنی اسکائی روٹ ایرواسپیس آج اپنے دیسی ساختہ سیٹلائٹ کو لانچ کرنے جا رہی ہے۔ اسکائی روٹ ایرواسپیس حیدرآباد کی کمپنی ہے۔ کمپنی نے اسے ’مشن آگمن وکرم-1 راکٹ‘ نام دیا ہے۔ اس کا لانچ آج صبح 11.30 بجے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے کیا جانا ہے۔

اسکائی روٹ اپنے آرربیٹل راکٹ سے سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہ پہلی بار ہوگا جب کوئی ہندوستانی نجی کمپنی اپنے خود کے تیار کردہ لانچ وہیکل سے سیٹلائٹ کو زمین کے مدار میں قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔ وکرم-1 راکٹ کا نام ملک کے خلائی پروگرام کے بانی ڈاکٹر وکرم سارابھائی کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔

وکرم-1 ایک 24 میٹر طویل اوربیٹل کلاس راکٹ ہے۔ اسے چھوٹے سیٹلائٹس کے لانچ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پوری طرح ہلکے کاربن-کمپوزٹ اسٹرکچر سے بنا ہے۔ اس وجہ سے اس کا وزن کم اور صلاحیت زیادہ ہو جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق کاربن فائبر سب سے مضبوط اسٹیل کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا ہلکا ہوتا ہے۔ اس سے راکٹ زیادہ کارآمد بنتا ہے۔ راکٹ میں تین سالڈ پروپلشن اسٹیج ہیں۔ سب سے اوپر ایک اوربیٹل ایڈجسٹمنٹ ماڈیول لگایا گیا ہے۔

اسکائی روٹ ایرواسپیس کا کہنا ہے کہ یہی ماڈیول اس مشن کے کئی سیٹلائٹس کو الگ الگ مداروں میں قائم کرنے میں مدد کرے گا۔ وکرم-1 کو 450 کلومیٹر کے لو-ارتھ اوربٹ (ایل ای او) میں 350 کلوگرام تک کا پیلوڈ لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ وکرم-1 میں کئی اہم تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس تکنیک کا ہندوستان میں پہلی بار استعمال کیا گیا ہے۔

راکٹ کے تمام لکویڈ انجن دھات سے بنے ہیں۔ ان کو 3ڈی-پرنٹڈ انجن کہتے ہیں۔ اس تکنیک کی مدد سے پہلے جن انجنوں کو بنانے میں سینکڑوں پرزے لگتے تھے، انہیں ایک ہی پرنٹڈ انجن میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مینوفیکچرنگ کا وقت بھی کافی کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے خود کا نیومیٹک اسٹیج سیپریشن سسٹم بھی تیار کیا ہے۔ یہ ٹیسٹ کے قابل بھی ہے۔ مشن آگمن میں کئی پیلوڈ بھیجے جائیں گے۔ ان میں ڈائمنڈ لوٹس بھی شامل ہے۔ ڈائمنڈ لوٹس کو بنگلورو کی کمپنی کاسموس ڈائمنڈز کی لیب میں تیار کیا گیا ہے۔

اسکائی روٹ کے مطابق، اجے کمار مٹے واڑا کا بنایا ہوا مائیکرو آرٹ بھی وکرم-1 مشن کے ساتھ خلا میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس میں 18 کیرٹ سونے سے بنا ایک چھوٹا راکٹ ہے۔ اس کے اندر ملک کے تین عظیم سائنسدانوں سر سی وی رمن، ڈاکٹر وکرم سارابھائی اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے بے حد باریک مجسمے بنائے گئے ہیں۔ ان مجسموں کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ وہ چاول کے ایک دانے سے بھی چھوٹے ہیں۔ اس کے علاوہ اس مشن کے ساتھ وزیرِ اعظم نریندر مودی کا ہاتھ سے لکھا ہوا پوسٹ کارڈ بھی خلا میں بھیجا جائے گا۔ اس پر وندے ماترم لکھا ہے۔

اب سے پہلے ملک میں مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا کام بنیادی طور پر اسرو کے راکٹوں کے ذریعے ہوتا رہا ہے۔ اسکائی روٹ ایرواسپیس کا قیام 2018 میں عمل میں آیا تھا۔ اسکائی روٹ نے 18 نومبر 2022 کو وکرم-ایس نامی اپنے پہلے نجی سب-اوربیٹل راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ یہ راکٹ تقریباً 88.8 کلومیٹر کی اونچائی تک پہنچا اور طے شدہ مشن پروفائل کو کامیابی سے پورا کرتے ہوئے خلیجِ بنگال میں اترا۔ اسکائی روٹ کا کہنا ہے کہ فی الحال اس کی سب سے بڑی ترجیح وکرم-1 کو کامیاب اور قابلِ اعتماد لانچ وہیکل کے طور پر قائم کرنا ہے۔

ملک کی خلائی پالیسی 2023 میں نجی کمپنیوں کے لیے دروازے کھولے گئے اور ان کی شراکت داری بڑھائی گئی ہے۔ اس کے لیے ان-اسپیس سیڈ فنڈ اسکیم کا اعلان کیا گیا۔ یہ نئے اسپیس اسٹارٹ اپس کو ابتدائی مالی مدد دینے کے لیے اسکیم شروع کی گئی تھی۔ گزشتہ سال 2024 میں نجی کمپنیوں کو خلائی سرگرمیوں کی منظوری دینے کا عمل زیادہ شفاف اور آسان بنایا گیا۔ اسپیس اسٹارٹ اپس کو سرمایہ فراہم کرنے کے لیے 1,000 کروڑ روپے کا وینچر کیپیٹل فنڈ قائم کیا گیا۔

مرکزی حکومت کے مطابق، سال 2014 میں ملک میں صرف ایک رجسٹرڈ اسپیس اسٹارٹ اپ تھا۔ فروری 2026 تک ان کی تعداد 400 سے زیادہ ہو گئی۔ ہندوستانی اسپیس اسٹارٹ اپس میں اب تک 50 کروڑ ڈالر (500 ملین ڈالر) سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جس میں اکیلے 2025 میں تقریباً 15 کروڑ ڈالر (150 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری آئی۔ پکسل، دھرو اسپیس، اسکائی روٹ ایرواسپیس، اگنی کل کاسموس اور بیلاٹرکس ایرواسپیس جیسی کمپنیاں ہندوستان کے نئے خلائی دور کی سرکردہ کمپنیوں کے طور پر ابھری ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande