سونم وانگچک کی اہلیہ نے صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھ کر دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی
نئی دہلی، 18 جولائی (ہ س)۔ ماہر ماحولیات سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے ہفتہ کے روز دہلی کے صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھا، جس میں وانگچک کو اپنی پسند کے کسی دوسرے طبی مرکز میں منتقل کرنے کی اجازت کی درخواست کی۔ خط میں
سونم وانگچک کی اہلیہ نے صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھ کر دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی


نئی دہلی، 18 جولائی (ہ س)۔

ماہر ماحولیات سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے ہفتہ کے روز دہلی کے صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھا، جس میں وانگچک کو اپنی پسند کے کسی دوسرے طبی مرکز میں منتقل کرنے کی اجازت کی درخواست کی۔ خط میں انہوں نے اسپتال کے کام کاج اور طبی معلومات کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے۔

گیتانجلی نے خط میں الزام لگایا کہ اسپتال کی میڈیکل ٹیم نے انہیں ہفتہ کی صبح مطلع کیا کہ سونم وانگچک کا پوٹاشیم لیول 2.9 تک گر گیا ہے، جو گزشتہ روز شام 4:16 پر 4.3 ریکارڈ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس تضاد پر سوال اٹھایا اور متعلقہ میڈیکل رپورٹس کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خاندان کو وانگچک کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹروں سے ڈیجیٹل اور ذاتی طور پر ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ گیتانجلی نے الزام لگایا کہ اسپتال میں شفافیت کی کمی نے ان کا اعتماد کو توڑد یا ہے۔ نتیجتاً، خاندان نے وانگچک کو اپنی پسند کے طبی مرکز میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے درخواست کی کہ وہ اسپتال سے ان کے ڈسچارج سے متعلق تمام رسمی کارروائیوں کو تیز کریں تاکہ وانگچک کو بہتر طبی دیکھ بھال اور ضروری ٹیسٹوں کے لیے دوسرے اسپتال میں منتقل کیا جا سکے۔

بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے گیتانجلی جے آنگمو نے بتایا کہ سونم وانگچک فی الحال ٹھیک ہیں اور سفر کرنے کے قابل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وانگچک طلباء کے روشن مستقبل سے متعلق مطالبات پر دباو¿ ڈالنے کے لیے بھوک ہڑتال پر تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 20 جولائی کو مجوزہ پارلیمنٹ مارچ کی حمایت میں نہ صرف دہلی بلکہ ملک بھر کے مختلف شہروں میں طلبہ مارچ کا انعقاد کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی پولیس نے جنتر منتر پر گزشتہ 20 دنوں سے بھوک ہڑتال کر رہے سونم وانگچک کو آج صبح صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا۔ اس کے علاوہ، پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جی پی) کی سوشل میڈیا مہم اور احتجاج سے متعلق معاملات میں بھی کارروائی کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande