
نئی دہلی، 18 جولائی (ہ س)۔
کانگریس پارٹی نے ماہر ماحولیات سونم وانگچک کو ہفتہ کی صبح دہلی پولیس کے ذریعہ صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرانے کو آمرانہ عمل قرار دیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے اسے جمہوریت اور آئین پر دھبہ قرار دیا۔
کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ چاہے وہ پروفیسر جی ڈی اگروال ہوں، جو ماں گنگا کو بچانے کے لیے بھوک ہڑتال پر تھے، ہریانہ کی خاتون پہلوان، کسان، دلت اور قبائلی، یا پیپر لیک سے متاثر طلباء ، حکومت نے کسی کو نہیں بخشا۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت کی نظر میں جو کوئی بھی آواز اٹھاتا ہے وہ ”غدار“ یا ” پرجیوی“ ہے۔ جنتر منتر پر جو کچھ ہوا وہ جمہوریت اور آئین پر ایک اور سیاہ دھبہ ہے۔ کھرگے نے دعویٰ کیا کہ کوٹا اور دہرادون میں ”چھاتروں کی گونج“ شروع ہوگئی ہے اور دہلی تک پہنچے گی۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ حکومت کو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہٹانا چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے سونم وانگچک کو احتجاج سے ہٹا دیا گیا۔ حکومت کو ہمدردی اور انسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے اس نے پرامن احتجاج کو کچلنے کے لیے فاشسٹ طریقے اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہے اور عوام اس کا جواب دیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مانسون اجلاس شروع ہونے سے پہلے دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے ہٹا یا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی پولیس نے جنتر منتر پر گزشتہ 20 دنوں سے بھوک ہڑتال کر رہے سونم وانگچک کو ہفتہ کی صبح صفدرجنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پولیس نے کہا کہ یہ کارروائی ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں اور ان کی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے کی گئی۔ اس احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکنوں کی پولیس افسران سے جھڑپ بھی ہوئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ