
نئی دہلی، 18 جولائی (ہ س): کانگریس نے دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے معروف ماہر ماحولیات سونم وانگچک کو ہفتہ کی صبح دہلی پولیس کے ذریعے صفدرجنگ اسپتال میں زبردستی داخل کرنے کے عمل کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کانگریس میڈیا شعبے کے چیئرمین اور راجیہ سبھا کے رکن پون کھیڑا نے ایک ایکس پوسٹ میں کہا، ہمارا آئین ہر شہری کو اپنی آواز اٹھانے اور پرامن احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے، لیکن وزارت داخلہ کا رویہ اس حق کو ہی نشانہ بنا رہا ہے۔
کھیڑا نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے اور ایک دن پہلے ہی ایک نیا پولیس کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ اگر آج کی کاروائی انکا پہلا پیغام ہے، تو یہ واضح ہے کہ نئے پولیس کمشنر کی وفاداری آئینی فرض سے زیادہ اقتدار کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواہ خواتین پہلوانوں کو سڑکوں پر گھسیٹنا ہو یا سابق فوجیوں کے ساتھ بدسلوکی کرنا ہو، حکومت نے بار بار دکھایا ہے کہ اسے آئین یا جمہوری اصولوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی پولیس بھوک ہڑتال کے 21 ویں دن کی صبح جنتر منتر پہنچی اور سونم وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال میں داخل کرایا۔ پولیس نے کہا کہ یہ قدم ہائی کورٹ کے حکم اور ان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ اس دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکنوں نے احتجاج کیا اور پولیس کے رویہ پر ناراضگی ظاہر کی۔
وانگچک پیپر لیک کی تحقیقات اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کی صحت مسلسل خراب ہوتی جا رہی تھی۔ انکا وزن 9.5 کلو کے قریب کم ہو گیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو مرکزی اور دہلی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ وانگچک کا روزانہ طبی معائنہ کریں اور ضرورت پڑنے پر انہیں علاج فراہم کریں۔
ہندوستھان سماچار
--------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد