

بھارتیہ کسان سنگھ کے قومی صدر نے کہا- ایتھنول ملک اور کسان دونوں کی ترقی کے لیے بہت ضروری
ایتھنول کے خلاف غلط معلومات پھیلائی جارہی ہیں، پانی کی بربادی کی باتیں پوری طرح بے بنیاد اور گمراہ کن: کے سائیں ریڈی
بھوپال، 18 جولائی (ہ س)۔
بھارتیہ کسان سنگھ (بی کے ایس) نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے ایتھنول کی پیداوار سے متعلق موقف کی پرزور حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک اور کسان دونوں کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ ریاست کے دارالحکومت بھوپال میں ہفتے کے روز تنظیم کے قومی صدر کے سائیں ریڈی نے کہا کہ ایتھنول کے خلاف غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔
آج بھوپال میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ کسان سنگھ کے قومی صدر کے سائیں ریڈی نے کہا کہ ایتھنول بنانے میں ہزاروں لیٹر پانی کی بربادی کی باتیں پوری طرح بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے تکنیکی پہلو پیش کرتے ہوئے سمجھایا کہ گنے کا رس نکالنے کے لیے فیکٹریوں میں صرف محدود پانی ہی ملایا جاتا ہے اور استعمال کے بعد اس پانی کو دوبارہ ری سائیکل کر لیا جاتا ہے۔
ریڈی نے کہا کہ ایتھنول کی مخالفت کرنا اصل میں کسانوں کی اقتصادی ترقی اور ملک کی ترقی میں رخنہ پیدا کرنے جیسا ہے، کیونکہ یہ ایندھن گنا، مکہ اور چاول جیسی فصلوں سے تیار ہوتا ہے، جس سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہترین قیمتیں ملتی ہیں۔ پٹرول میں اس کی آمیزش سے جہاں ایک طرف غیر ملکی تیل پر ملک کا انحصار کم ہوگا وہیں دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی میں بھی بھاری کمی آئے گی۔ انہوں نے حکومت سے مستقبل میں سو فیصد ایتھنول پر مبنی گاڑیوں کو فروغ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
گاڑیوں میں ایتھنول ملی ہوئی ایندھن سے آنے والی تکنیکی خرابیوں کے سوال پر انہوں نے دو ٹوک کہا کہ ملک میں گزشتہ پانچ سالوں سے اس کا کامیاب استعمال ہو رہا ہے، اگر کوئی تکنیکی مسئلہ ہے تو گاڑی بنانے والی کمپنیوں کو اپنی تکنیک سدھارنی چاہیے، اسے ایتھنول کے خلاف ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی بھارتیہ کسان سنگھ نے ملک بھر میں ایندھن کی قیمتوں کو یکساں کرنے اور عام عوام کو راحت دینے کے لیے پٹرول اور ڈیزل کو فوری طور پر جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے کا بڑا مطالبہ اٹھایا ہے۔
زراعت سے متعلق دیگر مسائل پر ریڈی نے کہا کہ مرکزی حکومت سال 25-2024 کی خریف اور ربیع کی فصلوں کے لیے اپنے حصے کی انشورنس کی رقم جاری کر چکی ہے، اس لیے اب ریاستی حکومت کو بھی اپنی حصے داری فوری جاری کر کے کسانوں کے بینک کھاتوں میں کلیم ٹرانسفر کرنا چاہیے۔ انہوں نے بنا کسی رکاوٹ کے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر مونگ کی خریداری بڑھانے پر زور دیا اور بتایا کہ سنگھ اس سلسلے میں جلد ہی مرکزی حکومت اور نافیڈ کو ایک میمورنڈم سونپے گا۔
پریس کانفرنس سے پہلے بھارتیہ کسان سنگھ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے مرینا میں واقع بند پڑی تاریخی کیلارس شوگر مل کو کسی نجی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کرنے کے بجائے، ایک کوآپریٹو سوسائٹی بنا کر براہِ راست کسانوں کے انتظام میں سونپنے کی ٹھوس تجویز پیش کی۔
انہوں نے صلاح دی کہ ضلع کلکٹر کی صدارت میں کسانوں، شیئر ہولڈرز اور تکنیکی ماہرین کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے جو اس کا آپریشن سنبھالے، جس پر وزیرِ اعلیٰ نے بھی مثبت رخ اپناتے ہوئے غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ آخر میں، ملک میں کسانوں کی خودکشی کے سنگین موضوع پر بات کرتے ہوئے قومی صدر نے کسانوں سے جذباتی اپیل کی کہ وہ خودکش اقدامات نہ اٹھائیں اور کیمیائی کھادوں کے چکر ویوہ سے نکل کر قدرتی کھیتی کو اپنائیں، اس سے نہ صرف کھیتی کی لاگت آدھی رہ جائے گی بلکہ کسانوں کی مالی حالت میں بھی بڑا سدھار دیکھنے کو ملے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن