
جودھ پور، 16 جولائی (ہ س)۔ راجستھان ہائی کورٹ نے وقف املاک سے جڑے ایک اہم معاملے میں ایک اہم حکم جاری کیا ہے، جس میں واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ جودھ پور کے 17 قبرستانوں میں کسی بھی نئی غیر قانونی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے یہ ذمہ داری مشترکہ طور پر تمام متعلقہ سرکاری محکموں اور مدعا علیہان پر ڈالی ہے۔
چیف جسٹس کے ڈویژن بنچ نے یہ حکم ڈی بی سول رٹ پٹیشن نمبر 19786 آف 2023 کی سماعت کے دوران دیا۔عدالت میں دائر عبوری درخواست میں مارواڑ ویلفیئر اینڈ ایجوکیشن سوسائٹی کو وقف املاک میں مداخلت سے روکنے، قبرستان پارکنگ کے لیے جاری کردہ ٹینڈر کو منسوخ کرنے اورتکیہ چاندشاہ اور سوجتی گیٹ میں واقع کرایہ کی وصولی کو روکنے کی درخواست کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران میونسپل کارپوریشن نے عدالت کے سابقہ حکم کی تعمیل کے لیے اضافی وقت کی درخواست کی جسے عدالت نے قبول کرتے ہوئے اگلی سماعت چار ہفتوں کے لیے مقرر کی۔ تاہم، اگلی سماعت تک ہائی کورٹ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ راجستھان حکومت، وقف بورڈ، جودھپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن، ضلع انتظامیہ، تحصیل انتظامیہ، مارواڑ ویلفیئر اینڈ ایجوکیشن سوسائٹی اور متعلقہ وقف کمیٹیوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ 17 قبرستانوں میں کوئی نئی غیر قانونی تعمیر نہ ہو۔ عدالت نے اس عبوری درخواست کو نمٹاتے ہوئے مرکزی رٹ پٹیشن کو مزید سماعت تک ملتوی کر دیا۔ اس طرح مرکزی حکم میں ہائی کورٹ کی جانب سے 17 قبرستانوں میں نئی غیر قانونی تعمیرات پر پابندی، تمام مدعا علیہان کو حکم کی تعمیل کو یقینی بنانے کی ہدایات، میونسپل کارپوریشن کو سابقہ حکم کی تعمیل کے لیے اضافی وقت اور معاملہ کی اگلی سماعت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری مدعا علیہان پر عائد ہوتی ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی