
مجوزہ حلقہ بندی بل کی اپوزیشن مخالفت کرے گی، ضروری ترامیم شامل ہوں تو غور کیا جا سکتا ہے: سنجے راؤتناگپور، 16 جولائی (ہ س) شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے کہا ہے کہ 20 جولائی سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اگر مجوزہ حلقہ بندی بل پیش کیا جاتا ہے تو اپوزیشن اس کی مخالفت کرے گی۔ تاہم اگر حکومت اپوزیشن کی جانب سے تجویز کردہ ضروری ترامیم کو بل میں شامل کرتی ہے تو تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر اس پر غور کر سکتی ہیں۔ناگپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ فی الحال یہ طے نہیں ہوا ہے کہ حکومت آئین کا 131 واں ترمیمی بل اسی مانسون اجلاس میں پیش کرے گی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بل پارلیمنٹ میں آئے گا تو تمام اپوزیشن جماعتیں اجتماعی طور پر اس کا جائزہ لیں گی اور اس کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت 20 جولائی سے شروع ہونے والے مانسون اجلاس میں آئین کا 131 واں ترمیمی بل پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ بل کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھا کر 850 کرنے اور نئی حلقہ بندی کا عمل شروع کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔اس سے قبل این سی پی کے شرد پوار گروپ کی کارگزار صدر سپریا سولے نے کہا تھا کہ اگر تمام ریاستوں میں یکساں طور پر 50 فیصد نشستوں کے اضافے کی بنیاد پر حلقہ بندی کی جاتی ہے تو اس کی مخالفت کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوگی۔ سنجے راؤت نے ایودھیا کے رام جنم بھومی مندر میں عطیات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے مندر کے خزانچی گووند دیو گری مہاراج کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مندر کے خزانے کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے، لہٰذا اگر اتنے بڑے پیمانے پر مبینہ بے ضابطگیاں یا گھوٹالہ ہوا ہے تو اس کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔انہوں نے اعلان کیا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) ایودھیا رام مندر سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف عوامی بیداری مہم کے تحت 18 جولائی کو ناگپور کے رام نگر واقع رام مندر میں رام رکشا پاٹھ اور احتجاجی پروگرام منعقد کرے گی، جس میں پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے بھی شرکت کریں گے۔ راؤت نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو بھی اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اپنے دعوتی خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ فڑنویس رام بھکت ہیں اور رام مندر تحریک سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے مندر سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف عوامی بیداری مہم میں ان کی موجودگی اہم ہوگی۔سنجے راؤت نے اس موقع پر پنڈھرپور کے وٹھل مندر میں وی آئی پی درشن کے معاملے اور سدھیر منگنٹیوار سے متعلق حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے شندے گروپ کی ہندوتوا کی سیاست پر بھی سوالات اٹھائے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے