
لکھنؤ، 16 جولائی (ہ س)۔ کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے ٹراما سینٹر کے ڈاکٹروں نے بہترین ہنگامی طبی خدمات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت نایاب اور پیچیدہ سرجری کر کے ایک 23 سالہ شخص کی جان بچائی۔یہ سرجری اس لئے پیچیدہ تھی کیونکہ لوہے کی چار سلاخیں مریض کے بائیں کولہوں میں داخل ہو کر اس کے سینے اور پیٹ کو چیرتے ہوئے پار ہو گئی تھیں۔
ان میں سے تین سلاخیں نوجوان کے دائیں کندھے اور گردن کے قریب پہنچ گئی تھیں، جبکہ ایک سلاخ ریڑھ کی ہڈی کے قریب اس کی پیٹھ کی جانب نکل گئی تھی۔ ان سلاخوں سے نوجوان کے پھیپھڑوں، معدہ، چھوٹی آنت اور مثانے سمیت کئی اہم اعضاءکو شدید نقصان پہنچایا۔
گاو¿ں راجے پور، ضلع فرخ آباد کا رہائشی امیش مزدور ہے۔ 13 جولائی کو لکھنؤ کے بادشاہ نگر میں زیر تعمیر عمارت پر کام کرتے ہوئے وہ اونچائی سے گرا اور لوہے کی سلاخوں پر جا گرا۔ سلاخیں اس کے جسم میں گھس گئیں اور وہ ان میں پھنس گیا۔ مقامی لوگوں نے سلاخیں کاٹ کر اسے کے جی ایم یو ٹراما سینٹر پہنچایا۔ ٹراما سینٹر میں ڈاکٹر سمیر مشرا کی ہدایت پر ڈاکٹر نریندر کمار کی ٹیم نے فوراً معائنہ اور علاج شروع کیا۔
اس کے بعد آپریشن کو مہارت سے انجام دیا گیا۔ مریض کی حالت اب نارمل ہے۔ وہ آئی سی یو میں انتہائی نگہداشت کے ماہرین کی نگرانی میں صحت یاب ہو رہا ہے۔ کے جی ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر سونیا نتیانند نے اس پیچیدہ سرجری کو انجام دینے والی پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈپارٹمنٹ آف ٹراما سرجری اور ٹراما سنٹر نے فوری اور اعلیٰ معیار کی ہنگامی طبی خدمات فراہم کرکے ریاست میں ایک بار پھر اپنے سرکردہ کردار کو ثابت کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد