
جموں, 16 جولائی (ہ س): جموں یونیورسٹی نے مبینہ طور پر علیحدگی پسندی سے متعلق قابلِ اعتراض مواد پر مشتمل دو متنازع کتابوں کے مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ یونیورسٹی نے ان مصنفین اور ناشرین کی تمام کتابوں اور دیگر مطبوعہ مواد کو اپنے تمام شعبہ جات، دفاتر، کتب خانوں اور ڈیجیٹل ذخائر سے فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق یہ فیصلہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے 4 جولائی 2026 کے سرکاری حکم نامے اور 7 جولائی 2026 کو جاری یونیورسٹی سرکلر کے تسلسل میں لیا گیا ہے۔سرکلر میں کہا گیا ہے کہ مصنفین ہلال احمد، سنتوش مینا اور ڈاکٹر سشانت گری کے علاوہ اوبرائے بک سروس، جموں اور انوراگ پرکاشن، دہلی کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے، لہٰذا آئندہ ان کی شائع کردہ کسی بھی کتاب یا مطبوعہ مواد کی خریداری نہیں کی جائے گی۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام ریکٹروں، ڈائریکٹروں، شعبہ جات کے سربراہان اور دھنونتری کتب خانے کے انچارج کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام دفاتر، شعبوں، کتب خانوں اور ڈیجیٹل ذخائر کا فوری معائنہ کریں اور اگر مذکورہ مصنفین یا ناشرین کا کوئی مواد موجود ہو تو اسے فوری طور پر واپس لے کر اس کی تعمیلی رپورٹ رجسٹرار کے دفتر میں پیش کریں۔
سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ کتابوں اور تعلیمی مواد کی خریداری کے لیے ایک جامع معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) مرتب کرنے اور قابلِ اعتراض مواد کی مؤثر جانچ کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی، تاکہ مستقبل میں کسی بھی غیر مناسب یا قابلِ اعتراض مواد کو یونیورسٹی کے کتب خانوں یا تعلیمی نظام کا حصہ بننے سے روکا جا سکے۔
قابلِ ذکر ہے کہ مذکورہ دونوں کتابیں سمگر شکشا منصوبے کے تحت سرکاری اسکولوں کے کتب خانوں میں شامل کیے جانے پر تنازعہ کا سبب بنی تھیں، جس کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن نے انہیں واپس لینے کے احکامات جاری کیے تھے۔ اسکے بعد اس معاملے میں تین ناشرین کو گرفتار کیا گیا، جبکہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے آٹھ افسران کو معطل کرتے ہوئے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر