ہردا میں 12 گھنٹے بعد ختم ہوا کسانوں کا چکہ جام، انتظامیہ کی یقین دہانی پر نیشنل ہائی وے بحال
ہردا، 16 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع میں مونگ کی سو فیصد خریداری، کھاد کی تقسیم میں ای-ٹوکن نظام ختم کرنے اور فصل بیمہ سمیت مختلف مطالبوں کو لے کر عام کسان یونین کی جانب سے بدھ کی صبح سے اندور-بیتول قومی شاہراہ (این ایچ-47) پر شروع ک
ہردا میں 12 گھنٹے بعد ختم ہوا کسانوں کا چکہ جام، انتظامیہ کی یقین دہانی پر نیشنل ہائی وے بحال ہوئی


ہردا، 16 جولائی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع میں مونگ کی سو فیصد خریداری، کھاد کی تقسیم میں ای-ٹوکن نظام ختم کرنے اور فصل بیمہ سمیت مختلف مطالبوں کو لے کر عام کسان یونین کی جانب سے بدھ کی صبح سے اندور-بیتول قومی شاہراہ (این ایچ-47) پر شروع کیا گیا چکہ جام دیر رات 12 بجے ختم ہو گیا۔ انتظامیہ کی طرف سے مطالبوں پر مثبت پہل کی یقین دہانی کے بعد کسانوں نے تحریک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

تحریک کے دوران کسانوں کے وفد نے کلکٹر سدھارتھ جین سے ملاقات کر کے اپنے اہم مطالبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ انتظامیہ نے یقین دلایا کہ کسانوں کے مطالبوں کو محکمۂ زراعت کے سینئر حکام اور ریاستی حکومت تک پہنچایا جائے گا۔ ساتھ ہی وزیرِ اعلیٰ سے کسان وفد کی ملاقات کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔

عام کسان یونین کے رکن دنیش لیگا نے بتایا کہ انتظامیہ کی تحریری اور زبانی یقین دہانی کے بعد این ایچ-47 پر چل رہا غیر معینہ چکہ جام ملتوی کر دیا گیا ہے۔ تقریباً 12 گھنٹے تک چلے مظاہرے کی وجہ سے اندور-ناگپور فور لین پر ٹریفک متاثر رہا، حالانکہ تحریک ختم ہونے کے بعد دیر رات سے آمد و رفت معمول پر آ گئی۔ اس تحریک کو ضلع کے مختلف گاوں سے پہنچے بڑی تعداد میں کسانوں کی حمایت ملی۔ کسانوں نے انتباہ دیا کہ اگر ان کے مطالبوں پر جلد ہی کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی، تو مستقبل میں اس تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande