
کولکاتا، 16 جولائی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے غیر قانونی دراندازی کے لیے جعلی دستاویزات تیار کرنے والے نیٹ ورک اور اس سے متعلق مالی لین دین کی جانچ کے تحت جمعرات کو مغربی بنگال سمیت ملک بھر میں 13 ٹھکانوں پر ایک ساتھ چھاپے ماری کی ۔ بنگال میں ای ڈی نے کولکاتا، شمالی اور جنوبی 24 پرگنہ اور مرشد آباد میں چھاپے ماری کی ۔
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں ایک ایسے نیٹ ورک کے اشارے ملے ہیں جس نے مبینہ طور پر موٹی رقم لے کر فرضی آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، اور ای-شرم کارڈ جیسے دستاویزات تیار کرواتا تھا ۔ شبہ ہے کہ ان دستاویزات کی بنیاد پرلوگوں کو مغربی بنگال سے ملک بھر کی مختلف ریاستوں بالخصوص کرناٹک، تمل ناڈو، پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش میں بھیجا گیا۔
ذرائع کے مطابق، اتر پردیش پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے انسانی اسمگلنگ کی تحقیقات کے دوران اس نیٹ ورک تک پہنچی۔ تحقیقات میں کولکاتا، شمالی 24 پرگنہ اور مرشد آباد میں مبینہ جعلی دستاویز بنانے والے گروہ کے فعال ہونے کے اشارے ملے ہیں، جس کے بعد مالیاتی پہلووں کی جانچ ای ڈی نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔
ای ڈی کی ابتدائی جانچ میں کئی اداروں کے نام سامنے آنے کا بھی دعوی کیا گیاہے۔ ایجنسی کو شبہ ہے کہ، کچھ معاملات میں رضاکارانہ تنظیموں کی آڑ میں دستاویزات تیار کرنے اور بڑی مقدار میں رقم کے لین دین کا نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ متعدد بینک اکاو¿نٹس کو مبینہ طور پر لین دین کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا اوربہت سے اکاؤنٹس کے ذریعے چھوٹی رقم منتقل کی گئی۔
ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور جعلی دستاویزات کے اس نیٹ ورک کا تعلق مغربی بنگال سے کروڑوں روپے کی غیر قانونی سرگرمیوں سے ہوسکتا ہے۔اسی سلسلے میں جمعرات کی صبح سے ہی مختلف مقامات پر تلاشی کا عمل جاری ہے۔
اس سے قبل، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے بنگلہ دیش سے خواتین اور نابالغ لڑکیوں کی مبینہ اسمگلنگ کے سلسلے میں مغربی بنگال کے سرحدی علاقے بنگاو¿ں میں چھاپے ماری کر چکی ہے۔اس تحقیقات نے بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ سے منسلک مبینہ جعلی دستاویزات کے نیٹ ورک کے شواہد کا بھی پردہ فاش کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد