
اسکول ڈائری میں اسلامی اسباق درج ہونے پر تنازعہ، پولیس تحقیقات کا آغازحیدرآباد، 17 جولائی (ہ س) ۔ایک اسکول کے طالب علم کی ہوم ورک ڈائری میں اسلامی اسباق درج ہونے کے الزام پرتنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی پولیس نے شکایت درج کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
طالب علم کی رشتہ دار سپریا گوڑ نے الزام لگایا کہ جب انہوں نے بچے کی اسکول ڈائری دیکھی تو اس میں ہوم ورک کے طور پر کلمہ پڑھیں”، دینیات” اور اس سے متعلق دیگر ہدایات درج تھیں۔
سپریا گوڑکا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ طلبہ کو اسلامی تعلیمات پڑھنے پر مجبور کررہی ہے اور اسے لازمی مضمون کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق یہ طلبہ کی ذہن سازی کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی شکایت محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے بھی کریں گی۔
دوسری جانب اسکول انتظامیہ نے ان الزامات کو مستردکرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ دینیات صرف مسلم طلبہ کے لیے مخصوص مضمون ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایک استاد سے ہوم ورک لکھتے وقت غیر ارادی طور پر غلطی ہو گئی، جس کے باعث یہ ہدایات غلطی سے ایک ایسے طالب علم کی ڈائری میں درج ہو گئیں جس کے لیے یہ مضمون نہیں تھا۔
ادھر اس معاملے کی شکایت مقامی پولیس اسٹیشن میں بھی درج کرائی گئی ہے۔ پولیس کا کہناہے کہ واقعے کی جانچ جاری ہے اور تمام حقائق کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس دوران نہ تو پولیس نے اور نہ ہی محکمۂ تعلیم نے اس معاملے میں کسی بھی الزام کی باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے، اور تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کیاجارہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق