’وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان بل‘ پر نظرِ ثانی اور وسیع مشاورت ضروری: مرکزی تعلیمی بورڈ
نئی دہلی،15جولائی(ہ س)۔ مرکزی تعلیمی بورڈ(ایم ٹی بی) کی جانب سے مجوزہ وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان(وی بی ایس اے) بل،2025 پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں، لیکن وہ دستورِ ہند، وفاقی نظام اور تعلیم
’وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان بل‘ پر نظرِ ثانی اور وسیع مشاورت ضروری: مرکزی تعلیمی بورڈ


نئی دہلی،15جولائی(ہ س)۔ مرکزی تعلیمی بورڈ(ایم ٹی بی) کی جانب سے مجوزہ وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان(وی بی ایس اے) بل،2025 پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں، لیکن وہ دستورِ ہند، وفاقی نظام اور تعلیمی اداروں کی خودمختاری کے مطابق ہوں۔ یہ بل اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک نیا مرکزی ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے، جو موجودہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی)، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن(اے آئی سی ٹی ای) اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن(این سی ٹی ای) کی جگہ لے گا۔ بل کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے ضابطوں کو ایک نظام کے تحت لانا اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔

مرکزی تعلیمی بورڈ کے سکریٹری، سید تنویر احمد نے کہا کہ اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو زیادہ بااختیار، جواب دہ اور تحقیق و اختراع کے لیے زیادہ سازگار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کا دستور ہمارے وفاقی نظام کی بنیاد ہے۔ چونکہ تعلیم Concurrent List کا موضوع ہے، اس لیے مرکز اور ریاستیں دونوں اس شعبے میں برابر کی آئینی ذمہ داری رکھتی ہیں۔ کسی بھی نئے قانون میں اس توازن کو برقرار رکھنا ضروری ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بل میں مختلف اختیارات کو ایک مرکزی ادارے کے سپرد کرنے کی تجویز انتظامی اعتبار سے مفید ہو سکتی ہے، لیکن اس سے اختیارات کی حد سے زیادہ مرکزیت اور ریاستوں کے کردار کے محدود ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی معاملات میں مناسب آزادی ملنی چاہیے تاکہ وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ سید تنویر احمد نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ متعدد ریاستی حکومتوں، ماہرینِ تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی اداروں نے بھی بل کے بعض پہلووں پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اہم قانون پر فیصلہ کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقوں سے سنجیدہ اور بامعنی مشاورت ہونی چاہیے۔ کیونکہ مضبوط تعلیمی نظام صرف مضبوط قوانین سے نہیں بلکہ اعتماد، مشاورت اور آئینی اصولوں کے احترام سے بنتا ہے‘‘۔

مرکزی تعلیمی بورڈ نے مطالبہ کیا کہ بل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی(جے پی سی) ریاستی حکومتوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں، اساتذہ، طلبہ، ماہرینِ تعلیم اور دیگر متعلقہ فریقوں کی آرائ اور تجاویز کو سنجیدگی سے زیرِ غور لائے، تاکہ مجوزہ قانون زیادہ متوازن، قابلِ عمل اور وسیع تعلیمی قبولیت کا حامل بن سکے۔ سید تنویر نے مزید کہا کہ ’’اگر ہندوستان کو عالمی معیار کا تعلیمی نظام قائم کرنا ہے تو اصلاحات کا مقصد اختیارات کو صرف ایک جگہ جمع کرنا نہیں، بلکہ معیاری تعلیم، آزاد تحقیق، بااختیار تعلیمی اداروں اور دستورِ ہند کے بنیادی اصولوں کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے‘‘۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande