
پٹنہ، 15 جولائی (ہ س) ۔پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج کو بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب سے پہلے بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔ بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی دفتر میں منعقدہ ایک تقریب میں جن سوراج کے کئی رہنما اور کارکن بی جے پی میں شامل ہوئے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے سراوگی نے تمام قائدین کا شال پہنا کر خیرمقدم کیا اور تنظیم میں فعال کردار کی خواہش کی۔رکنیت سازی تقریب میں بی جے پی کے کئی سینئر لیڈر اور عہدیدار بشمول حکمراں پارٹی کے چیف وہپ اور دیگھا کے ایم ایل اے سنجیو چورسیہ موجود تھے۔بی جے پی میں شامل ہونے والوں میں دیگھا اسمبلی سیٹ سے سابق جن سوراج امیدوار، کمہرار اسمبلی سیٹ کے سابق امیدوار بٹو سنگھ، منیر اسمبلی سیٹ کے سابق امیدوار پروفیسر ڈاکٹر کے سی سنہا، گوپال سنگھ اور پٹنہ میونسپل کارپوریشن کی سابق میئر امیدوار ونیتا سنگھ سمیت کئی دیگر لیڈران اور کارکنان شامل تھے۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر کےسی سنہا نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں قومی مفاد سب سے اہم ہے اور ملک کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا امید کے ساتھ ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ بہار کو علم کی سرزمین بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ذریعہ ملک کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بی جے پی میں شامل ہونے پر ریاستی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے سراوگی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت، مرکزی حکومت کے کام اور بی جے پی کی پالیسیوں سے متاثر ہو کر مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈر بڑی تعداد میں بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ نئے ممبران کی شمولیت سے تنظیم مزید مضبوط ہوگی اور آئندہ انتخابات میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب سے عین قبل جن سوراج کے کئی سرکردہ لیڈروں اور سابق امیدواروں کی بی جے پی میں شمولیت کو ریاستی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سے ضمنی انتخاب کے سیاسی مساوات پر اثر پڑ سکتا ہے، جب کہ بی جے پی اسے اپنی بڑھتی ہوئی تنظیمی طاقت کی علامت قرار دے رہی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan