
اب صرف محکمہ آنند سنبھالیں گے وزیر پٹیل
بھوپال، 15 جولائی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش حکومت میں آزادانہ چارج کے ریاستی وزیر لکھن پٹیل سے مویشی پروری اور ڈیری کا محکمہ واپس لے لیا گیا ہے، جسے اب وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو خود سنبھالیں گے۔ اس بڑی انتظامی اور سیاسی تبدیلی کے بعد لکھن پٹیل کے پاس اب صرف محکمہ آنند کی ذمہ داری رہ گئی ہے، جس کے سلسلے میں محکمۂ عمومی انتظامیہ نے نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
معلومات کے مطابق، وزیر لکھن پٹیل سے یہ اہم محکمہ واپس لیے جانے کے پیچھے ریاست میں شروع ہونے والی خود کفیل گئو شالاوں کا تنازعہ ہے۔ دراصل، ان گئو شالاوں کے انتظام و انصرام کے لیے منتخب کی گئیں کئی تنظیموں کے طریقۂ کار سے حکومت خوش نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود محکمہ جاتی افسران اور وزیر کی رضامندی سے انہیں کام سونپنے کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ گزشتہ تین-چار مہینوں سے اس حساس معاملے پر وزیر کو لگاتار ہدایتیں دے رہے تھے۔ اس کے بعد جب ان تنظیموں کو زمین الاٹمنٹ کے معاملے کی شکایت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بی جے پی کی مرکزی قیادت تک پہنچی، تو اعلیٰ کمان کی ہدایت پر یہ سخت قدم اٹھایا گیا۔ حالانکہ، محکمہ تبدیل کیے جانے کے بعد بدھ کے روز اسٹیٹ ہینگر پر لکھن پٹیل کی وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات بھی ہوئی۔ اس کے بعد وزیرِ اعلیٰ گوتم ٹیٹوال کے ساتھ اجین روانہ ہو گئے۔
اس معاملے پر میڈیا کے سوالات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر لکھن پٹیل نے کہا کہ کسے کون سا محکمہ دینا ہے، یہ پوری طرح وزیرِ اعلیٰ کا استحقاق ہے، لیکن ان سے یہ محکمہ کیوں واپس لیا گیا، اس کی وجہ انہیں خود نہیں معلوم ہے۔
اس نئی تبدیلی کے بعد وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے پاس عمومی انتظامیہ، داخلہ، جیل، صنعتی پالیسی اور ترغیبِ سرمایہ کاری، رابطۂ عامہ، نرمدا گھاٹی ترقیات، ایوی ایشن، معدنی وسائل، پبلک سروس مینجمنٹ اور اوورسیز انڈین کے ساتھ ساتھ مویشی پروری اور ڈیری کا محکمہ بھی آ گیا ہے۔ اس طرح ان کے پاس اب کل 11 اہم محکمے ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف، اس فیصلے سے ریاست کی انتظامی تاریخ میں ایک انوکھا ریکارڈ بھی درج ہو گیا ہے۔ وزارتِ افسران و ملازمین یونین کے صدر سدھیر نائک نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ سال 2016 میں ملک کا پہلا ’آنند محکمہ‘ بنانے والے مدھیہ پردیش کی 10 سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے جب کوئی وزیر صرف اور صرف آنند محکمہ کا ہی چارج سنبھالے گا، اس سے پہلے یہ ہمیشہ کسی بڑے محکمے کے ساتھ ہی منسلک رہتا تھا۔
قابلِ ذکر ہے کہ موہن یادو حکومت میں وزیروں سے محکمہ چھننے کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے کابینہ وزیر ناگر سنگھ چوہان سے بھی جنگلات اور ماحولیات کا محکمہ لے کر رام نیواس راوت کو سونپا گیا تھا، لیکن راوت کے ضمنی انتخاب ہارنے کے بعد سے وہ محکمہ بھی وزیرِ اعلیٰ کے پاس ہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن