
پٹنہ، 15 جولائی (ہ س)۔ بہار اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (بی ایس ڈی ایم اے) اور مرکزی حکومت کی تنظیم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این آئی ڈی ایم) کے مشترکہ زیراہتمام بدھ کے روز پٹنہ میں آفات کے خطرے کے انتظام پر ایک روزہ ریاستی سطحی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ صفر ہلاکتوں کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پیشگی تیاری اور عوام کی شرکت ضروری ہے۔اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین نے کہا کہ این آئی ڈی ایم اور ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے درمیان مضبوط ہم آہنگی آفات کے خطرے میں کامیاب کمی کی کلید ہے۔ انہوں نے صلاحیت کی ترقی میں بی ایس ڈی ایم اے اور این آئی ڈی ایم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صفر ہلاکتیں ہر ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔ اس کے لیے موثر ابتدائی انتباہی نظام، باقاعدہ تربیت، مضبوط ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر(ڈی ای او سی )، تربیت یافتہ انسانی وسائل، اور تیز رفتار ردعمل کے طریقہ کار کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
گورنر نے کہا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ صرف راحت اور بچاؤ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد روک تھام، پیشگی تیاری، عوامی بیداری اور بروقت وارننگ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے اور انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی تیاری کسی بھی آفت میں جان و مال کے نقصان کو نمایاں طور پر کم کرسکتی ہے۔گورنر نے کہا کہ بہار میں سیلاب، بجلی گرنے اور دیگر قدرتی آفات سے درپیش چیلنجوں کے پیش نظر مقامی سطح پر بروقت معلومات کی فراہمی اور کمیونٹی کی تیاری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ انہوں نے آپادا میتر ، ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے کردار کی ستائش کی، اور معذوروں، بزرگ شہریوں، خواتین اور بچوں کے لیے آفات کے خطرے کو کم کرنے کے جامع پروگراموں کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی تعلیم کو فروغ دینے، باقاعدہ فرضی مشقوں اور عوامی آگاہی مہم چلانے پر بھی زور دیا۔
اس سے پہلے افتتاحی اجلاس میں بہار حکومت کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر رتنیش سدا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قدرتی آفات کی تعدد اور شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں، کمیونٹی کی شرکت، پیشگی تیاری، اور عوامی آگاہی آفات کے خطرے میں کمی کے لیے سب سے مؤثر اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور عوام کی شرکت سے ہی جان و مال کے نقصان کو مؤثر طریقے سے کم کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan