
’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کی رسمِ اجرائ، ادیبوں کے عصری تقاضوں پر سیر حاصل گفتگودربھنگہ،15جولائی(ہ س)۔
المنصور ٹرسٹ، دربھنگہ کے زیرِ اہتمام ادبی و فکری نشست ’’گفتگو‘‘ کا کامیاب انعقاد حکیم دمڑی منزل، ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلیکس، سبھاش چوک، دربھنگہ میں عمل میں آیا۔ نشست کا موضوع ’’ادیبوں کے عصری تقاضے‘‘ تھا، جبکہ اس موقع پر معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی تازہ تصنیف ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کی باوقار رسمِ اجرائ بھی انجام دی گئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی، صدر شعب? اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی (اتر پردیش) تھے، جبکہ تقریب کی صدارت پروفیسر محمد آفتاب اشرف، سابق صدر شعبہ اردو، متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ نے کی۔ نظامت کے فرائض معروف ادیب انور آفاقی نے انجام دیے۔
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر احسان عالم نے مصنف ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاعری، افسانہ نگاری، تنقید اور کتابوں پر تبصرہ نگاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، اور اب سفرنامہ نگاری میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجیر احمد آزاد کے دونوں سفرناموں کو قارئین نے بے حد پسند کیا ہے، جو ان کی مشاہداتی قوت اور ادبی بصیرت کا ثبوت ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر ایوب راعین نے مجیر احمد آزاد سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سفر اور مشاہدے کے شوقین رہے ہیں، جس کا عکس ان کے سفرناموں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ انہوں نے دونوں سفرناموں پر مختصر مگر جامع اظہارِ خیال کیا۔
صدرِ مجلس پروفیسر محمد آفتاب اشرف نے اردو سفرنامہ نگاری کی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے مذہبی اسفار، تاریخی سفرناموں اور اردو ادب میں اس صنف کی اہمیت پر گفتگو کی۔ انہوں نے ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے اسے عمدہ اور دلچسپ تصنیف قرار دیا اور مصنف کو مبارک باد پیش کی۔
نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے انور آفاقی نے مصنف کو ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ مکمل کرنے کی ترغیب دی اور کشمیر کی سیاحت کے دل کش پہلو¶ں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سفرنامے قارئین میں سیاحت کا ذوق پیدا کرتے ہیں۔
اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے دربھنگہ ٹائمز پبلی کیشنز کی اشاعتی خدمات کو سراہتے ہوئے دو سو سے زائد کتابوں کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے بالخصوص ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کی اشاعت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ زبان و ادب کی بقا کے لیے اشاعتی سرگرمیوں کا فروغ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے تحفظ کے لیے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو اردو تعلیم اور مطالعے کی طرف راغب کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے ادیبوں کی عصری ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادب کو معاشرے کے بدلتے ہوئے حالات اور مسائل سے ہم آہنگ رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس نوعیت کی ادبی نشستوں کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کتابوں کی اشاعت خوش آئند ہے، تاہم قارئین کی کم ہوتی تعداد تشویش کا باعث ہے۔پروفیسر آفاقی نے دربھنگہ کو دبستانِ عظیم آباد کی توسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں ادبی سرگرمیوں کے اعتبار سے دربھنگہ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے اور یہاں کی علمی و ادبی روایت ہمیشہ زندہ اور متحرک رہی ہے۔
رسمِ اجرائ کے موقع پر ڈاکٹر منصور خوشتر، سکریٹری المنصور ٹرسٹ نے کتاب کے اشاعتی مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کے سفرنامے قارئین میں سیر و سیاحت کا شوق پیدا کرتے ہیں۔ وہ اپنے سفر کے دوران چھوٹی سے چھوٹی بات، قدرتی مناظر، تاریخی مقامات اور سماجی مشاہدات کو نہایت دل کش اسلوب میں قلم بند کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سفرنامہ نگاری ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی ایک اہم ادبی شناخت بن چکی ہے۔ ان کا پہلا سفرنامہ ’’دارجلنگ کی سیر‘‘ قارئین میں غیر معمولی طور پر مقبول ہوا، کیونکہ اس میں ادبی حسن کے ساتھ رہائش، آمدورفت، اخراجات اور سیاحتی مقامات سے متعلق ایسی عملی معلومات بھی شامل تھیں جو عام مسافروں کے لیے رہنما کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس موقع پر ریاض اختر شفیق، پریم ناتھ کمار، جنید عالم اَروی، حامد انصاری، جمیل احمد سمیت شہر کی متعدد علمی، ادبی اور سماجی شخصیات موجود تھیں۔ تقریب خوش گوار ادبی ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais