
تہران/واشنگٹن/نئی دہلی (ایچ ایس)۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ وہاں ناکہ بندی شروع کی جائے گی ۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں حملوں کا تیسرا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ ایران نے بندر عباس، کیش، قشم اور ابو موسیٰ جزائر کے بندرگاہی شہر میں دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران میں فوجی کارروائی پھر سے شروع ہو گئی ہے۔ تہران نے امریکی علاقائی اتحادیوں پر حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے دو ٹینکروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کہا کہ ایرانی میزائلوں نے بحیرہ عمان میں اس کے ٹینکر کو نشانہ بنایا جس سے عملے کا ایک رکن ہلاک ہوگیا۔ متوفی ملاح کی شناخت ہندوستانی شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ دریں اثنا، ہندوستان نے آبنائے ہرمز میں اپنے ملاح کی ہلاکت پر ایران کے ڈپٹی چیف آف مشن کو طلب کیا۔
سی این این، سی بی ایس نیوز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق سینٹ کام نے کہا کہ یہ حملوں کی تیسری رات تھی۔ امریکی افواج نے ایران کے کئی علاقوں پر حملے کیے۔ ان حملوں میں ایران کے ساحلی دفاعی نظام کے ساتھ ساتھ میزائل اور ڈرون سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا نے بندر عباس کے بندرگاہی شہر اور کیش، قشم اور ابو موسی کے جزیروں پر دھماکوں کی اطلاع دی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ٹوٹ گئی ہے۔ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران میں فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ سینٹ کام نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی منگل کو شام 4 بجے (مشرقی وقت کے مطابق) دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
امریکہ -ایران فوجی ٹکراو نے علاقائی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ سعودی عرب اور یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان تازہ حملے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ ایران آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر حملہ کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا ”گارجین اینجل “بنے گا اور وہاں سے گزرنے کے لئے رقم وصول کرے گا۔ تاہم، ایران نے خود ٹول وصول کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے اور اس سال کے شروع میں کئی شپنگ کمپنیوں نے ایران کو ٹول ادا کیے تھے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دہرایا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کو دوبارہ نافذ کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کرناابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ صرف ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے جہازوں کے گزرنے پر پابندی لگائے گا۔ دریں اثنا، یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے کہا کہ مبینہ طور پر عمان کے لیمہ علاقے کے جنوب مشرق میں گزرتے ہوئے ایک ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ٹینکر ٹریکرز کے مطابق، ایران نے گزشتہ 26 دنوں میں آٹھ کروڑ بیرل تیل کی ترسیل کی ہے، جس کی مالیت فی الحال6 ارب ڈالر ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ایران لاکھوں بیرل کی ترسیل کا انتظار کر رہا ہے۔ ٹریکنگ گروپ نے کہا، ”اب جب کہ امریکی بحری ناکہ بندی طے شدہ وقت سے ایک ماہ قبل دوبارہ نافذ کی جا رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ ایران اب تقریباًتین کروڑ بیرل خام تیل بھیج سکے گا۔ “
بحرین کا کہنا ہے کہ اس نے آج کئی ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا۔ بحرین کی ڈیفنس فورس کے جنرل کمانڈ نے کہا کہ ایران بحرینی شہریوں اور نجی املاک کو نشانہ بنانے کے لیے جان بوجھ کر میزائل اور ڈرون کا استعمال کرکے بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ایران کے وزیر تیل محسن پاکنزاد کے مطابق امریکی تیل کی پابندیوں سے 60 دن کی چھوٹ گزشتہ ہفتےمنسوخ ہونے کے باوجود ایران کی تیل کی برآمدات معمول کے مطابق جاری ہیں۔ انہوں نے کہا،”ہمیشہ کی طرح، امریکہ نے اپنا وعدہ توڑا اور 60 دن کی چھوٹ کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی کی۔“
اسٹریٹجک ماہرین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر دیکھا جائے تو مفاہمت کی یادداشت ٹوٹ چکی ہے۔ کونارک، چابہار، قشم، ابو موسیٰ جزیرہ اور جزیرہ کیش پر حملہ کیا گیا ہے۔ کیش جزیرہ ایران کا ایک سیاحتی مقام ہے، جو موسم گرما میں لوگ جاتے یں۔ عمیدیہ، بوشہر اور بندر عباس پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ کیش جزیرہ اور بندر عباس مسلسل امریکہ کے نشانے پر رہے ہیں۔ یہ دونوں مقامات ،ایران کے لیے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ہیں۔ یہاں سے آبنائے ہرمز کی نگرانی کرنا آسان ہے۔ اسی لیے امریکہ ان دونوں مقامات پر حملے کر رہا ہے۔
اس کے جواب میں، ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور ( آئی آر جی سی ) نے کہا کہ اس نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اثاثوں بشمول ایندھن کے ٹینکوں پر حملہ کیا۔ بحرین میں آج صبح ایک میزائل الرٹ سائرن بجا، جو امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ٹھکانہہے۔ ایران نے اردن اور متحدہ عرب امارات کے دو ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا۔ ایران کا کہنا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں کو ایرانی ساحل کے قریب ایک الگ لین کا استعمال کرنا چاہیے اور ایرانی حکام سے اجازت لینا چاہیے۔ ایران نے ان حملوں پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ ایرانی کروز میزائل کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے سے عملے کا ایک رکن ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہو گئے۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ ٹینکرز عمان کے ساحل سے دور ممباسہ اور البحیہ (آبنائے کی جنوبی شپنگ لین) سے گزر رہے تھے۔ متحدہ عرب امارات کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے عملے کے چھ ارکان ہندوستانی شہری تھے اور زخمیوں میں سے دو یوکرینی تھے۔ آگ لگنے سے جہازوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد