
نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س): کھیلوں کی مرکزی وزارت نے جوڈو فیڈریشن آف انڈیا (جے ایف آئی) کی حال ہی میں منتخب ہونے والی عبوری ایگزیکٹو کمیٹی کو مشروط منظوری دے دی ہے۔ وزارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی پائی گئی تو یہ منظوری فوری طور پر معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے۔
جوڈو فیڈریشن آف انڈیا کے لیے سال 2022 میں عدالت نے ایک ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تھا، جس کی نگرانی میں فیڈریشن کے امور چلائے جا رہے تھے۔ اسی سال فروری میں دہلی ہائی کورٹ نے فیڈریشن کو سالانہ جنرل اجلاس منعقد کرنے اور قومی کھیل انتظامیہ ایکٹ-2025 کے مطابق نئی ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی۔ اسی عدالتی حکم کے بعد جون میں عبوری ایگزیکٹو کمیٹی کے انتخابات کرائے گئے، جن میں مکیش کمار صدر، بنی برت داس جنرل سکریٹری اور شلیش تلک خزانچی منتخب ہوئے۔
وزارتِ کھیل نے اپنے حکم میں کہا کہ جوڈو فیڈریشن آف انڈیا (عبوری ادارہ) کی ایگزیکٹو کمیٹی کو فوری اثر سے منظوری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ منظوری دہلی ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی۔ وزارت کے مطابق اگر عبوری ادارہ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا سنگین بے ضابطگی کا مرتکب پایا گیا تو دی گئی مشروط منظوری معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے۔
وزارت نے جوڈو فیڈریشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق مقررہ مدت میں مستقل ایگزیکٹو کمیٹی کے انتخابات کرائے اور اپنے آئین میں ترمیم کرکے اسے قومی کھیل انتظامیہ ایکٹ-2025 کے مطابق بنائے۔ اس کے علاوہ فیڈریشن کو ہر ماہ ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت کی رپورٹ وزارتِ کھیل کو پیش کرنا ہوگی اور اپنے تمام امور میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہوگا۔
نئی عبوری ایگزیکٹو کمیٹی میں صدر، جنرل سکریٹری اور خزانچی کے علاوہ چار نائب صدور اور چار مشترکہ سکریٹری بھی منتخب کیے گئے ہیں۔ سابق ٹینس کھلاڑی منیشا ملہوترا بھی عہدیداروں میں شامل ہیں۔ دولتِ مشترکہ کھیلوں کی تمغہ یافتہ جوڈو کھلاڑی ایل سشیلا دیوی اور اکرم شاہ کو اسپورٹس پرسن آف میرٹ کے طور پر عبوری ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
نیشنل کھیل ایڈمنیسٹریشن ایکٹ-2025 کے مطابق کسی بھی قومی کھیل فیڈریشن کی ایگزیکٹو کمیٹی میں زیادہ سے زیادہ 15 اراکین ہو سکتے ہیں، جن میں کم از کم دو نمایاں کھلاڑی اور چار خواتین اراکین کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ صدر، جنرل سکریٹری اور خزانچی مسلسل زیادہ سے زیادہ تین مدتوں تک ہی اپنے عہدوں پر برقرار رہ سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد