
کیف/ماسکو، 14 جولائی (ہ س)۔ یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ڈرون نے پیر کی رات بحیرہ ازوف میں روس کے 11 جہازوں کو نشانہ بنایا۔اس دوران، روس نے کہا ہے کہ ان حملوں سے ملک کی برآمدی صلاحیت اور ضروری اشیاءکی سپلائی متاثر نہیں ہوگی۔
فرانسیسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فرانس 24 کے مطابق یوکرین کی ڈرون فورس کے کمانڈر رابرٹ برووڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملوں میں پانچ آئل ٹینکرز، پانچ ڈرائی کارگو جہاز اور ایک ٹگ بوٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ نو دنوں کے دوران یوکرینی حملوں کی زد میں آنے والے جہازوں کی کل تعداد 116 ہو گئی ہے۔
بحیرہ ازوف ایک تزویراتی سمندری راستہ ہے جو روس، یوکرین کے روس کے زیر قبضہ جنوبی علاقوں اور کریمیا کے درمیان واقع ہے۔ روس کی اناج کی تقریباً ایک چوتھائی برآمدات اس راستے سے بھیجی جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کی وجہ سے اس راستے پر مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ تاہم روس کی وزارت زراعت نے واضح کیا کہ یوکرین کے حملوں کے باوجود ملکی برآمدات متاثر نہیں ہوں گی۔ بحیرہ ازوف کی موجودہ صورتحال کا ملکی خوراک کی سپلائی یا روس کی برآمدی صلاحیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
وزارت کے مطابق بحیرہ ازوف میں جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مزید ، ضرورت پڑنے پر کارگو کی ترسیل کے لیے متبادل ٹرانسپورٹ روٹس اور دیگر ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔
وہیں ، یوکرین نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد روس کے مبینہ شیڈو فلیٹ کو نقصان پہنچانا اور ماسکو کے زیر قبضہ کریمیا کو ایندھن کی سپلائی میں خلل ڈالنا ہے۔ یہ مہم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس پہلے ہی گھریلو ایندھن کی فراہمی سے متعلق چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی