
اسلام آباد، 14 جولائی (ہ س)۔ مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں پاکستان حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے مسلسل شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ منگل کے روز راولا کوٹ میں مظاہرین اور پاکستانی سیکورٹی فورسز کے درمیان ہوئی پرتشدد جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں چھ شہریوں کی موت ہو گئی، جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، راولا کوٹ کے نیو بس ٹرمینل کے قریب پاکستانی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کی، جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زاہد مغل، ظفر مغل، ارسلان اکبر اور واجد حیات سمیت چھ لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔
راولا کوٹ میں منعقدہ ایک عوامی جلسے میں تحریک کے رہنما جاوید اقبال نے پاکستان پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا، ’’78 برسوں تک ہمیں سرینگر کی آزادی کا خواب دکھایا گیا۔ اب یہ جھوٹا پروپیگنڈا ختم ہو چکا ہے۔ جب ہم آٹا مانگتے ہیں تو گولیاں ملتی ہیں، بجلی مانگتے ہیں تو گولیاں ملتی ہیں اور پانی مانگتے ہیں تو بھی گولیاں ملتی ہیں۔‘‘
جلسے میں لوگوں نے ’’ہر بچہ آخری سانس تک لڑے گا، لیکن پی او کے پاکستان کا صوبہ نہیں بنے گا‘‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے 15 جولائی کو مظفر آباد تک ’’لانگ مارچ‘‘ کی کال دی ہے اور پورے پی او کے کے لوگوں سے اس میں بڑی تعداد میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے پی او کے میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر اتر کر پاکستان حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ شروعات آٹا، بجلی، پانی، مہنگائی اور ٹیکسوں میں راحت جیسی بنیادی مانگوں سے ہوئی تھی، لیکن اب یہ تحریک پاکستان کے خطے پر کنٹرول کے خلاف ایک وسیع سیاسی احتجاج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن