
کینساس سٹی، 13 جولائی (ہ س)۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن سے 3۔1 سے شکست کے بعد سوئٹزرلینڈ کے ہیڈ کوچ مرات یاکن نے ریفری اور وی اے آر (ویڈیو اسسٹنٹ ریفری) کے فیصلوں پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے ٹیم کی آخری آٹھ تک پہنچنے کی کارکردگی کو کامیاب مہم قرار دیا۔
اتوار کو منعقدہ پریس کانفرنس میں یاکن کے ساتھ سوئس فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر پیٹر کنابیل اور قومی ٹیم کے ڈائریکٹر پیئرلویگی ٹامی بھی موجود تھے۔ تینوں نے ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی، لیکن کوارٹر فائنل میں شکست کو مایوس کن بتایا۔
میچ میں سوئٹزرلینڈ نے دوسرے ہاف میں برابری کا اسکور کیا، لیکن اس کے فورا ًبعد اسٹرائیکر بریل ایمبولو کو وی اے آر کے جائزے کے بعد سمولیشن(ڈائیولگانے) کے الزام میں دوسرا پیلا کارڈ دکھا کرباہربھیج دیا گیا۔ اس کے بعد10کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہی سوئس ٹیم پر ارجنٹائنا نے دباق بنایا اور میچ 3۔1 سے جیت لیا۔
شکست کے بعد یاکن نے ریفری کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’ہم نے نہ صرف ایک عظیم ارجنٹائن ٹیم اور موجودہ عالمی چمپئن کے خلاف کھیلا، بلکہ 70 ہزار ارجنٹائنا کے مداحوں، ریفری اور وی اے آر کے خلاف بھی کھیلا۔ یہ کسی بھی ٹیم کے لیے بہت زیادہ تھا۔ قدرتی طور پر اس طرح باہر ہونا تکلیف دہ ہے۔
تاہم، سوئس کوچ مستقبل کے بارے میں مثبت تھے۔ ’ہمارا سفر یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا زبردست امتزاج ہے۔ ہم نے ٹیم میں مسلسل نئی صلاحیتوں کو شامل کیا ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔
اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے یاکن نے واضح کیا کہ وہ ٹیم کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ’مجھے اب بھی کوچنگ سے وہی محبت ہے اور سوئس قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ بننا میرے لیے فخر کی بات ہے۔ مجھے اس ٹیم کے ساتھ کام کرنا پسند ہے۔ میرا کسی اور راستے پر جانے کا ارادہ نہیں ہے۔ ‘
51 سالہ مرات یاکن گزشتہ پانچ سال سے سوئٹزرلینڈ کے ہیڈ کوچ ہیں اور ان کے معاہدے میں دو سال باقی ہیں۔ ایک کھلاڑی کے طور پر، انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے لیے 49 بین الاقوامی میچ کھیل چکے ہیں۔
یاکن نے آگے کہا،’ہم آنے والی مہم میں بھی پرجوش رہنا چاہتے ہیں۔ نیز نیشنز لیگ جیسے ٹورنامنٹ ہمیں نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ اب سوئس ٹیم یو ای ایف اے نیشنز لیگ کے دوسرے درجے میں کھیلے گی۔ 2024 میں ریگریڈ ہونے کے بعد، وہ آنے والے مہینوں میں شمالی مقدونیہ، اسکاٹ لینڈ اور سلووینیا کا سامنا کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan