امریکی مداخلت جاری رہی توآبنائے ہرمز نہیں کھلے گی : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
تہران، 12 جولائی (ہ س)۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نیوی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ’’اگلے حکم تک‘‘ بند کر دیا گیا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مطابق، یہ فیصلہ علاقے میں غیر ملکی فوجی سرگرمیوں اور سیکورٹی خدشات کے پیش
آبنائے ہرمز، فائل فوٹو


تہران، 12 جولائی (ہ س)۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نیوی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ’’اگلے حکم تک‘‘ بند کر دیا گیا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مطابق، یہ فیصلہ علاقے میں غیر ملکی فوجی سرگرمیوں اور سیکورٹی خدشات کے پیش نظر لیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ علاقے میں اپنی فوجی مداخلت بند نہیں کرتا، تب تک آبنائے بند رہے گی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں سروس ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق اتوار کے روز جاری کردہ بیان میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک بند کر دیا گیا ہے اور یہ تب تک بند رہے گی جب تک امریکہ اس علاقے میں اپنی مداخلت بند نہیں کر دیتا۔ کسی بھی جہاز کو اس آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی انتباہ دیا کہ اگر اس صورت حال کو ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا، تو اس کا ’’سخت جواب‘‘ دیا جائے گا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ممکنہ تصادم کی ذمہ داری امریکہ، اسرائیل اور ان ممالک پر ہوگی جو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے ٹھکانے فراہم کرتے ہیں۔

بیان کے مطابق، حال ہی میں ایک جہاز کی طرف سے ایرانی ہدایات کو نظر انداز کیے جانے اور اس کے آن بورڈ ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے جانے کے بعد وارننگ کے طور پر گولی چلائی گئی تھی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا دعویٰ ہے کہ اس سے سمندری سیکورٹی کے لیے خطرہ پیدا ہوا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعادہ کیا کہ اس نے پہلے بھی انتباہ دیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں غیر ملکی مداخلت اور کشتی رانی کے راستوں کے ’’غیر قانونی تعین‘‘ کا جواب فیصلہ کن کارروائی سے دیا جائے گا۔

قابلِ ذکر ہے کہ، ایران نے 28 فروری کے بعد اس اہم راستے کو بند کر دیا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے سختی شروع کی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا، جبکہ خود امریکی صدر نے 7 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

مئی میں، ایران نے حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز سے سمندری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے سرکاری طور پر ایک نیا سسٹم شروع کیا۔ ایران نے جہازوں کو خبردار کیا کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ اپنے آنے جانے کے منصوبے کا تال میر ملا نے سے انکار نہ کریں اور تہران کی طرف سے طے کردہ سپروائزری مینجمنٹ زون کے علاوہ کسی دوسرے راستے کا استعمال نہ کریں۔

جون میں، ایران اور امریکہ کے درمیان بلا اشتعال جارحیت سے پیدا ہونے والی صورت حال کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ ہوا۔ اس کے بعد واشنگٹن نے ناکہ بندی ہٹانے کا دعویٰ کیا، لیکن آبی گزرگاہ میں فوجی مداخلت جاری رکھنے کی بات بھی کہی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande