
یروشلم/مغربی کنارہ، 12 جولائی (ہ س)۔ ہندوستانی نژاد امریکی رکنِ پارلیمنٹ روہت کھنہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کے دورے کے دوران مسلح اسرائیلی باشندوں نے ان کے وفد کو تقریباً 90 منٹ تک روکے رکھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موقع پر موجود اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے مداخلت کرنے کے بجائے وہاں کے باشندوں کا ساتھ دیا۔
بین الاقوامی میڈیا کو کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ کی پریس ٹیم نے بتایا کہ یہ واقعہ جنوبی مغربی کنارے کے ایک ایسے علاقے میں پیش آیا، جہاں حالیہ مہینوں میں آباد کاروں کی تشدد کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق، امریکہ کی بنی ہوئی ایم4 رائفلیں لیے ہوئے اسرائیلیوں نے ان کے گروپ کی وین کو گھیر لیا اور راستہ روک دیا۔
کھنہ نے کہا کہ ان کا وفد ایک ایسے فلسطینی گاوں کا دورہ کر رہا تھا، جہاں آباد کاروں کی طرف سے مبینہ طور پر اسکول اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آئی ڈی ایف کو بلائے جانے کے بعد بھی فوجیوں نے ان کے گروپ کی کوئی مدد نہیں کی۔
کھنہ کے ساتھی کیمرن کاسکی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ آئی ڈی ایف موقع پر پہنچی، لیکن اس نے امریکی رکنِ پارلیمنٹ کے بجائے آباد کاروں کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کو روزمرہ کی زندگی میں کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک امریکی رکنِ پارلیمنٹ خود کو 90 منٹ تک بے بس محسوس کر سکتا ہے، تو وہاں رہنے والے لوگوں کی حالت کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی سفارت خانے اور اسرائیلی پولیس سے رابطے کے بعد ہی ان کا وفد وہاں سے نکل سکا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ کھربت جنوتا کے قریب آباد کاروں کی طرف سے گاڑیوں کو روکے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد فوجیوں اور پولیس کو موقع پر بھیجا گیا تھا۔ فوج نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے صورت حال سے نمٹنے کے لیے کارروائی کی، حالانکہ اس نے کھنا کے الزامات پر کوئی تفصیلی تبصرہ نہیں کیا۔
جب کھنا سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مستقبل میں امریکہ کے صدارتی انتخاب لڑنے پر غور کر رہے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ وہ اس امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس سفر کے بعد ان کا یہ خیال اور زیادہ مضبوط ہوا ہے۔
مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں سات لاکھ سے زیادہ اسرائیلی آباد کار رہتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی مانتا ہے، جبکہ اسرائیل اس تشریح سے اتفاق نہیں کرتا۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد مغربی کنارے میں تشدد اور سیکورٹی پابندیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رو ہت کھنہ امریکی کانگریس میں غزہ جنگ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیوں کے بڑے ناقدین میں شامل ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی جائزہ رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ جنگ کے حوالے سے پارٹی کی پالیسی نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں نقصان پہنچایا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی کو 2028 کا صدارتی انتخاب جیتنا ہے، تو اسے اسرائیل-غزہ پالیسی سمیت مشکل مسائل پر کھل کر بات چیت کرنی ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن