
واشنگٹن/تہران، 11 جولائی (ہ س)۔
امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران تزویراتی لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دے اور عوامی سطح پر اعلان کرے کہ وہ اس سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملہ نہیں کرے گا۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کو امید ہے کہ ہفتہ کو عمان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد تہران اس معاملے پر مثبت موقف اختیار کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ایران واضح طور پر اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام شپنگ لینز کھلی رہیں گی اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ دنیا کے سمندری تیل اور ایل این جی کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی اس سے گزرتا ہے۔
یہ تناو¿ 17 جون کو دستخط شدہ ایک مفاہمت کی یادداشت کی مختلف تشریحات سے پیدا ہوا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب امریکہ اور خلیجی ممالک نے تین تجارتی جہازوں پر حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا۔ جس کے بعد دونوں ممالک نے جوابی حملے شروع کر دیے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایران یہ اعلان کرے گا کہ آبنائے ہرمز میں تمام راستے کھلے رہیں گے اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی ٹول نہیں لگایا جائے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے عمان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد متوقع موقف اختیار نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں، تو یہ ان کے لیے اچھا دن نہیں ہوگا، ایک اہلکار نے خبردار کیا۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ بات چیت جاری رہے گی، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔
دریں اثناء ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی کہ تہران نے مذاکرات کے نئے دور کی درخواست کی تھی۔ انھوں نے واضح کیا کہ اگر امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو ایران ’جوابی اقدامات‘ سے جواب دے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان میں علاقائی ثالثوں سے ملاقات کریں گے۔ دریں اثنا، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا کہ تہران اب بھی امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا اور ایرانی قوم کبھی دباو¿ یا جبر کے سامنے نہیں جھکے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ