غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے لیے لبنان جائے گی امریکی فوجی ٹیم
واشنگٹن/بیروت، 11 جولائی (ہ س)۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایک وفد آنے والے دنوں میں لبنانی دارالحکومت بیروت کا دورہ کر سکتا ہے
غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے لیے لبنان جائے گی امریکی فوجی ٹیم


واشنگٹن/بیروت، 11 جولائی (ہ س)۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایک وفد آنے والے دنوں میں لبنانی دارالحکومت بیروت کا دورہ کر سکتا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نے دو سینئر لبنانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ دورہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان روم میں اگلے ہفتے ہونے والے تکنیکی مذاکرات سے پہلے ہو سکتا ہے۔ بات چیت کا بنیادی مقصد 26 جون کو طے پانے والے امریکی حمایت یافتہ فریم ورک معاہدے کو عملی جامہ پہنانا ہو گا، جس میں لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلاء کا بندوبست کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ سینٹ کام تکنیکی اور لاجسٹک سطحوں پر دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، انہوں نے وفد کے ممکنہ دورے پر سرکاری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ترجمان نے کہا کہ فریم ورک معاہدہ اب عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور پہلے پائلٹ زون کے جلد کام کرنے کی امید ہے۔ دیگر علاقوں کی نقشہ سازی اور منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جلد ہی بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کاری میں اضافہ کرے گا تاکہ ان علاقوں سمیت پورے ملک میں اپنی خودمختاری کو مو¿ثر طریقے سے بحال کرنے میں لبنانی حکومت کی مدد کی جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں اسرائیلی فورسز بدستور موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ علاقوں پر دہائیوں سے قبضہ کیا گیا ہے، جب کہ دیگر پر 2023-2024 کے تنازعے کے دوران قبضہ کیا گیا تھا۔ حالیہ فوجی کارروائی کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے لبنانی حدود میں تقریباً 10 کلومیٹر تک پیش قدمی کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande