حملوں سے جنوبی ایران دہلا، بوشہر جوہری توانائی پلانٹ کے پاس طاقتور دھماکہ
تہران/واشنگٹن، 10 جولائی (ہ س)۔ آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران کے درمیان چھڑی بالادستی کی جنگ سے خلیجی ممالک تک بارودی سرنگ پھیل چکی ہے۔ شدید معرکے کے درمیان ایران کا بوشہر جوہری توانائی پلانٹ دھماکوں سے دہل اٹھا ہے۔ امریکہ نے جنوبی ایران پر ہوئے
یہ بوشہر جوہری توانائی پلانٹ ہے۔ یہ پلانٹ خلیج فارس کے ساحل پر بوشہر شہر کے پاس واقع ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


تہران/واشنگٹن، 10 جولائی (ہ س)۔ آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران کے درمیان چھڑی بالادستی کی جنگ سے خلیجی ممالک تک بارودی سرنگ پھیل چکی ہے۔ شدید معرکے کے درمیان ایران کا بوشہر جوہری توانائی پلانٹ دھماکوں سے دہل اٹھا ہے۔ امریکہ نے جنوبی ایران پر ہوئے تازہ حملوں میں ہاتھ ہونے سے انکار کیا ہے۔ اس سے پہلے 28 فروری کو امریکہ-اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کے ٹھیک ایک ماہ بعد 28 مارچ کو ایران کے اس پلانٹ کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

ایران کا یہ واحد اور پہلا چالو جوہری توانائی پلانٹ ہے۔ یہ خلیج فارس کے ساحل پر جنوبی ایران کے بوشہر شہر کے پاس واقع ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران اس کے آس پاس کے علاقوں میں میزائل اور پروجیکٹائل گرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اسے 1970 کی دہائی میں جرمن کمپنیوں نے بنانا شروع کیا تھا۔ بعد میں اسے روس کے تعاون سے مکمل کیا گیا۔ یہاں کا پہلا ریکٹر (یونٹ-1) تقریباً 1000 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے۔ تازہ دھماکے سے بڑے پیمانے پر تابکاری کے اخراج کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

الجزیرہ اور ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی ایران کے اسٹریٹجک علاقوں میں ایک کے بعد ایک کئی زوردار دھماکوں نے پوری دنیا کی سانسیں اٹکا دی ہیں۔ مقامی میڈیا اور ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ بوشہر پلانٹ کے بے حد قریبی سیکورٹی گھیرے کے ساتھ ساتھ چوگادک فوجی اڈے اور ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اب تک کسی نے بھی ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی ایران نے کسی پر الزام عائد کیا ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن ہر حال میں ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے پرعزم ہے۔ تہران کے ساتھ تکنیکی بات چیت جاری ہے۔

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے کہا کہ امریکہ نے جمعرات کے روز حالات کو پرسکون کرنے کی کوشش کی۔ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے تکنیکی سطح کی بات چیت جاری ہے۔ ثالثوں نے بدھ کے روز ایران اور امریکہ کی قیادت سے فون پر بات چیت بھی کی۔ اس وقت دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر اتفاق رائے بنانے اور پھر تکنیکی ٹیموں کے درمیان بات چیت کے اگلے دور کے لیے تاریخ طے کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، سابق امریکی مرین کور اہلکار ڈین گریزیئر کا کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہونے کا پورا امکان ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کو اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکی اقدامات کے بارے میں معلومات دی۔

اسرائیل کے وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے ایکس پر شیئر کردہ پوسٹ میں کہا گیا، ’’آج شام دونوں رہنماوں کے درمیان ایک اور بات چیت ہوئی، جس میں مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تال میل برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا‘‘۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande