
سیول/پیانگ یانگ، 10 جولائی (ہ س)۔
شمالی کوریا نے اپنی انٹیلی جنس اور فوجی نگرانی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعہ کو کوریا کی حکمراں ورکرز پارٹی کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے اجلاس میں جنرل ریکونیسنس اینڈ انٹیلی جنس بیورو (جی آر آئی بی) کے دائرہ کار اور مشن کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ا±ن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فوج کی جنگی تیاری، جدید کاری اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے سے متعلق کئی اہم فیصلے لیے گئے۔
انادولو اور یونہاپ نیوز نے شمالی کوریا کی سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ جی آر آئی بی کو دشمن کے ممکنہ خطرات کی نگرانی، اہم انٹیلی جنس جمع کرنے اور فوجی جاسوسی کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بڑھانے کا کام سونپا جائے گا۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان صلاحیتوں کو کس طرح بڑھایا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا نے اپنی بیرونی انٹیلی جنس اور تجزیہ کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی سابقہ جاسوسی ایجنسی، جنرل ریکونیسنس بیورو (جی آر آئی بی) کو توسیع دی ہے۔
غور طلب ہے کہ جی آر آئی بی کا وجود پہلی بار ستمبر 2025 میں سامنے آیا تھا۔ اس کے سربراہ ری چانگ ہو کو اس سال 25 فروری کو پیانگ یانگ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران غیر ملکی آپریشن یونٹوں کی قیادت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ یہ پریڈ کوریا کی حکمران ورکرز پارٹی کی نویں کانگریس کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔
اجلاس میں جنگی نظام کے تکنیکی ڈھانچے کو جدید بنانے، جوہری توانائی کو معیار اور مقدار دونوں میں مضبوط بنانے اور فوجی اڈوں کو جدید بنانے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران کم جونگ ان نے سات بڑے فوجی احکامات پر بھی دستخط کئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ