نقلی سونا گروی رکھ کر کیا گھوٹالہ ، ملزم گرفتار
نئی دہلی، 10 جولائی (ہ س) ۔دہلی میں گولڈ لون کے نام پر کروڑوں روپے کی منصوبہ بند دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آیاہے۔ دہلی پولیس کے اقتصادی جرائم ونگ ( ای او ڈبلیو) نے ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس نے سونے کے نقلی زیورات، فرضی کے وائی سی دستاویزا
EOW-GOLD-LOAN-FRAUD-


نئی دہلی، 10 جولائی (ہ س) ۔دہلی میں گولڈ لون کے نام پر کروڑوں روپے کی منصوبہ بند دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آیاہے۔ دہلی پولیس کے اقتصادی جرائم ونگ ( ای او ڈبلیو) نے ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس نے سونے کے نقلی زیورات، فرضی کے وائی سی دستاویزات اور جعلی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے 3.81 کروڑ روپے سے زیادہ کا سونا قرض حاصل کیا۔

اس معاملے میں، ای او ڈبلیو نے سائی فن کارپ پرائیویٹ لمیٹڈ میں گولڈ آپریزر کے عہدے پر تعینات پنکج کمار کو گرفتار کیا ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے 683 فرضی گولڈ لون اکاو¿نٹس بنا کر کمپنی کے ساتھ کروڑوں روپے کا فراڈ کیا۔

ای او ڈبلیو کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس امت ورما نے جمعہ کو کہا کہ یہ سارا فراڈ 2022 اور 2025 کے درمیان جاری رہا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کمپنی نے اندرونی آڈٹ کیا۔ آڈٹ نے نہ صرف سینکڑوں مشکوک گولڈ لون اکاو¿نٹس کا انکشاف کیا، بلکہ کمپنی کے پاس گروی رکھے گئے تقریباً 14.11 لاکھ روپے اصلی سونے کے نو پیکٹ بھی غائب ہونے کی بات سامنے آئی۔

اس کے بعد کمپنی نے دہلی پولیس کے اقتصادی جرائم ونگ میں شکایت درج کرائی۔ شکایت کی بنیاد پر، اقتصادی جرائم ونگ نے ای او ڈبلیو تھانہ میں مجرمانہ فراڈ ، دھوکہ دہی، جعلسازی، جعلی دستاویزات کے استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا اور تفصیلی تحقیقات شروع کی۔

تفتیش کے دوران، پولیس نے کمپنی کے لون ریکارڈ، کے وائی سی دستاویزات، سونے کی تشخیص کی رپورٹس، آڈٹ رپورٹس، بینک اکاو¿نٹ اسٹیٹمنٹس اور دیگر اہم دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کی۔ کمپنی کے افسران اور ملازمین سمیت متعدد افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈز کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ 683 گولڈ لون اکاو¿نٹس دھوکہ دہی سے کھولے گئے،اور جعلی یا مصنوعی سونے کے زیورات کو اصلی بتا کر لے لیاگیا۔ ان فرضی کھاتوں کے ذریعے کمپنی سے کل تقریباً38.1 کروڑ روپے کے قرضے جاری کیے گئے تھے۔

ای او ڈبلیو کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گرفتار ملزم پنکج کمار کمپنی میں گولڈ اپریزر کے طور پر ملازم تھا۔ اس کی ذمہ داری گاہکوں کی طرف سے گروی رکھے ہوئے سونے کے اصلی ہونے کی تصدیق کرنا، اس کا جائزہ لینا، کے وائی سی دستاویزات کی تصدیق کرنا اور قرضوں پر کارروائی کرنا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور شریک ملزمان کے ساتھ مل کر جعلی سونے کو اصلی قرار دیا اور جعلی دستاویزات کی بنیاد پر سونے کے قرض کی منظوری حاصل کی۔

دوران تفتیش ملزم نے پولیس کو بتایا کہ دھوکہ دہی کو اتنے عرصے تک چھپانے کے لیے انوکھا طریقہ استعمال کیا گیا۔ سود کی ادائیگیوں کو وقتاً فوقتاً فرضی کھاتوں میں جمع کیا جاتا تھا تاکہ وہ کمپنی کے ریکارڈ میں باقاعدہ اور فعال دکھائی دیں۔ اندرونی نگرانی کے دوران شکوک و شبہات سے بچنے کے لیے لون مینجمنٹ سسٹم میں غلط اندراجات بھی کیے گئے۔ اس سے دھوکہ دہی کا کئی برسوں تک پتہ نہیں چل سکا۔

پولیس کے مطابق ملزم پنکج کمار دہلی کے روہنی میں بدھ وہار کا رہنے والا ہے۔ وہ سائی فنکارپ پرائیویٹ لمیٹڈ میں 2014 سے کام کر رہا تھا۔ وہ دہلی یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے اور اسے سونے کے قرضوں اور مالیاتی شعبے کا وسیع تجربہ ہے۔ اس نے مبینہ طور پر اس تجربے سے فائدہ اٹھایا اور کمپنی کے نظام میں خامیوں کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں روپے کا فراڈ کیا۔

ای او ڈبلیو نے 7 جولائی کو ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس اب پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس بات کی جانچ کر رہی ہیں کہ جعلی یا مصنوعی سونے کے زیورات کہاں سے بنائے گئے یا خریدے گئے، کس نے جعلی کے وائی سی دستاویزات فراہم کیں، کن کھاتوں سے دھوکہ دہی کی رقم حاصل کی اور اس سازش میں اور کون شامل تھا۔

تفتیشی افسران کیس سے متعلق الیکٹرانک شواہد، بینکنگ ٹریل اور مالیاتی لین دین کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ دھوکہ دہی سے حاصل کیے گئے اثاثوں کی بازیابی اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔ ای او ڈبلیو کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مزید بڑے انکشافات کا امکان ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande