
نئی دہلی، 10 جولائی (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے زندگی بچانے والی نقلی دواو¿ں کو بنانے اور ملک کی مختلف ریاستوں میں ان کی سپلائی کرنے والے ایک بین ریاستی گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کیا ہے۔ کئی مہینوں سے مفرور ماسٹر مائنڈ کو مظفر نگر سے گرفتار کیا گیا۔ ملزم کی گرفتاری کے ساتھ ہی اس کیس میں ملزموں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔گرفتار ملزم کی شناخت محمد اقدس صدیقی (28) کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ مظفر نگر کا رہنے والا ہے اور اس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے بی بی اے مکمل کیا ہے۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ وہ ہی اس پوری سنڈیکیٹ کا اصل سازشی اور آپریٹر تھا۔
کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس آدتیہ گوتم نے جمعہ کو بتایا کہ یکم اپریل کو نقلی ادویات بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مار کر ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا گیا تھا۔ چھاپے کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تاہم محمد اقدس فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس نے اس کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ (این بی ڈبلیو) بھی جاری کیا۔ اس کے بعد، کرائم برانچ کے سائبر سیل نے تکنیکی نگرانی، مقامی مخبروں اور مسلسل فیلڈ آپریشن کے ذریعے اس کے ٹھکانے کا پتہ لگایا۔ آخر کار اسے مظفر نگر میں گرفتار کر لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق اس معاملے میں نو ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں دہلی، نوئیڈا، غازی آباد اور لکھنو¿ کے دوا کاروباری ، سپلائی کرنے والے، فرضی جی ایس ٹی فارم فراہم کرنے والے لوگ، بینک کھاتہ دار اور دیگر ساتھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گینگ کئی ریاستوں میں پھیلا ہوا تھا اور ایک منظم طریقے سے نقلی ادویات کا کاروبار چلاتا تھا۔
تفتیش سے معلوم ہوا کہ اس گینگ نے جدید طریقے سے نقلی ادویات بنانے کی فیکٹری قائم کر رکھی تھی۔ نقلی ادویات معروف دوا ساز کمپنیوں کے ناموں سے تیار کی جاتی تھیں۔ اس کے لئے فرضی پیکیجنگ، جعلی لیبل،نقلی ٹریڈ مارکس، ڈائ، پنچ سیٹس اور اصل نظر آنے والی پرنٹنگ میٹریل کا استعمال کیا جاتا تھا، تاکہ صارفین اور خریدار آسانی سے دھوکہ کھا جائیں ۔اس گروہ کی جانب سے جن معروف کمپنیوں کی نقلی ادویات تیار کی جاتی تھیں، ان میں ایبٹ کی اسٹیمیٹل ایم ڈی، انٹاس کی گیباپن-این ٹی ، جوئی-1، جوئی ایم-1 اور جوئی ایم-2، ٹورنٹ کی شیل کیل اور جی ایس کے کی سی سی ایم شامل ہیں۔ ان ادویات کا استعمال قے، چکر آنا، اعصابی درد، ذیابیطس سے ہونے والی اعصابی خرابی (ڈایابیٹک نیوروپیتھی)، وٹامن بی-12 کی کمی، کیلشیم کی کمی اور ہڈیوں سے متعلق سنگین بیماریوں کے علاج میں کیا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان انتہائی کم قیمت پرنقلی ادویات تیار کرتے تھے اور انہیں اصلی برانڈڈ ادویات کے طور پر مارکیٹ میں فروخت کرتے تھے۔ ان ادویات کی قیمت اصل ادویات سے تقریباً 60 فیصد کم تھی۔ پھر انہیں کم قیمتوں کا لالچ دے کر ہول سیل اور ریٹیل ڈیلروں کو سپلائی کیا جاتا تھا۔ اس حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے، گینگ نے مختصر وقت میں کئی ریاستوں میں اپنا نیٹ ورک پھیلایا اور لاکھوں روپے غیر قانونی طور پر کمائے۔
کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ یہ گینگ نہ صرف فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو مالی نقصان پہنچا رہا تھا بلکہ لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا تھا۔ مارکیٹ میں فروخت ہونے والی نقلی ادویات میں معیار، موثریت اور حفاظت کے معیارات کا فقدان تھا۔ نتیجتاً یہ ادویات سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ پولیس اب اس ریکیٹ میں ملوث خام مال فراہم کرنے والے، نقلی پیکیجنگ بنانے والے، ٹرانسپورٹرز، ڈسٹری بیوٹرز، ہول سیل اور ریٹیل دوا فروخت کنندگان اور دیگر جو مالی فائدہ اٹھاتے ہیں، ان افراد کی نشاندہی میں مصروف ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد