
بیجنگ، 10 جولائی (ہ س)۔ چین کے جنوب مشرقی صوبہ فوژیان کے شہر جنجیانگ میں جوتوں کے کارخانے میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک اور 211 کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ حادثے کے وقت فیکٹری کے احاطے میں کل 239 کارکن موجود تھے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے وقت جوتے بنانے والی کمپنی ہوئٹنگ کی کثیر المنزلہ فیکٹری میں لگی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کئی مزدور عمارت کی چھت پر پھنس گئے۔ سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں عمارت سے بلند شعلے اور سیاہ دھواں آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ واقعے کے وقت فیکٹری میں 239 مزدور موجود تھے۔ امدادی کارکنوں نے 213 افراد کو باہر نکالا تاہم ان میں سے دو ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے اور 26 دیگر لاپتہ مزدوروں کی لاشیں بعد میں نکال لی گئیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ فیکٹری کے گراونڈ فلور سے لگی۔ جوتے بنانے میں استعمال ہونے والے آتش گیر مواد اور چپکنے والی اشیائ کی وجہ سے آگ پوری عمارت میں تیزی سے پھیل گئی۔ دریں اثنا، سیڑھیوں پر ذخیرہ شدہ مواد کی بڑی مقدار نے بچاو اور آگ بجھانے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی۔مقامی فائر ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد آگ پر کافی حد تک قابو پالیا گیا، حالانکہ دیر شام تک موقع سے دھواں اٹھتا رہا اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پانی کا چھڑکاو کرتے رہے۔واقعے کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مدد کے لیے تمام کوششوں کی ہدایت کی۔ انہوں نے حادثے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔ صدر نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں کام کی جگہ پر ہونے والے کئی سنگین حادثات سے سبق سیکھنا چاہیے اور صنعتی حفاظتی اقدامات کو ملک بھر میں مزید سختی سے نافذ کیا جانا چاہیے۔وزیر اعظم لی کی چیانگ نے متعلقہ محکموں کو کام کی جگہوں پر حفاظتی خطرات کی جامع تحقیقات کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ژنہوا کے مطابق فیکٹری کے ذمہ داروں اور دیگر متعلقہ ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ کمپنی کے بینک اکاونٹس بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔ ایمرجنسی مینجمنٹ کی وزارت نے ایک خصوصی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجی ہے، جب کہ فوژیان کی صوبائی انتظامیہ زخمیوں کے علاج اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہی ہے۔سنکیانگ شہر چین کے سب سے بڑے جوتوں اور ملبوسات کی تیاری کے مراکز میں سے ایک ہے اور اسے اکثر ملک کا’جوتوں کا دارالحکومت‘ کہا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یہاں کی ہزاروں کمپنیوں نے 2024 میں 1.2 بلین سے زیادہ جوتوں کے جوڑے تیار کیے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan