
ڈاکٹر عبداللہ اسلمکچھ تاریخیں دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہوتی ہیں جو انسان کے دل پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتی ہیں۔ برسوں گزر جائیں، مگر جب وہ دن لوٹ کر آتا ہے تو اپنے ساتھ وہی جذبات، وہی یادیں اور وہی احساسِ جدائی لے آتا ہے۔ میرے لیے ایسی ہی ایک تاریخ 3 جولائی 1986ءہے۔اس وقت میں انگلینڈ کے علاقے ایسٹ برنہم (سلاو¿، بکنگھم شائر کے قریب) میں واقع اسلامک پریس ایجنسی میں کام کر رہا تھا۔ سہ پہر کے تقریباً تین بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ کال ہندوستان سے تھی۔دوسری طرف سے آنے والی آواز نے وہ خبر سنائی جسے سننے سے ہر بیٹا خوف کھاتا ہے۔میرے والد انتقال کر گئے تھے۔چند لمحوں تک یہ الفاظ حقیقت معلوم ہی نہ ہوئے۔ میں انہیں سن تو رہا تھا، مگر جیسے ذہن ان کا مفہوم قبول کرنے سے انکار کر رہا ہو۔ وقت گویا رک گیا تھا۔ میرے اردگرد کی دنیا اپنی رفتار سے چل رہی تھی، لیکن میرے اندر سب کچھ ساکت ہو چکا تھا۔تقریباً آدھے گھنٹے تک میں اسی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ نہ سوچ پا رہا تھا، نہ کوئی ردِّعمل ظاہر کر سکتا تھا، نہ اس خبر کو قبول کرنے کی ہمت پیدا ہو رہی تھی۔ ہزاروں میل کا فاصلہ یکایک ناقابلِ پیمائش محسوس ہونے لگا۔میرے مدیرِ اعلیٰ ڈاکٹر فتحی عثمان کو جب اس سانحے کا علم ہوا تو اپنی معروف شفقت اور مہربانی کے ساتھ انہوں نے فوراً کمپنی کے ڈرائیور سہیل سے کہا کہ وہ مجھے لندن میرے گھر پہنچا دے۔مجھے اس سفر کی بہت کم باتیں یاد ہیں۔میرے ذہن پر صرف ایک ہی تصویر چھائی ہوئی تھی—میرے والد کا چہرہ، ان کی آواز، ان کی قربانیاں، اور زندگی کے وہ بے شمار لمحے جو اس اچانک جدائی کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ قیمتی محسوس ہونے لگے۔3 جولائی: یادوں کا دناس دن کے بعد 3 جولائی میرے لیے محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں رہی۔
ہر سال جب یہ دن آتا ہے تو میں روزمرہ زندگی کی مصروفیات سے خود کو الگ کر لیتا ہوں اور خاموش تنہائی میں پورا دن گزارتا ہوں۔یہ میری یادوں سے سالانہ ملاقات کا دن ہے۔تنہائی کا دن۔شکرگزاری کا دن۔اس شخصیت سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کا دن، جس کی موجودگی اس دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود آج بھی میری زندگی کو سمت دے رہی ہے۔ان لمحوں میں میں صرف یہ نہیں سوچتا کہ وہ کون تھے، بلکہ یہ بھی غور کرتا ہوں کہ وہ کس چیز کی علامت تھے۔میں ان اسباق کو یاد کرتا ہوں جو انہوں نے وعظ کیے بغیر سکھائے؛ ان اقدار کو جو انہوں نے شہرت یا اعتراف کی خواہش کے بغیر اپنی زندگی میں مجسم کر کے دکھائیں، اور ان مثالوں کو جو انہوں نے اپنی روزمرہ کی سادہ مگر باوقار زندگی کے ذریعے ہمارے لیے چھوڑیں۔موت انسان کو اپنے پیاروں سے جدا ضرور کر دیتی ہے، لیکن ان کے چھوڑے ہوئے نقوش کو دلوں سے مٹا نہیں سکتی۔کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد صرف تصویروں اور مدھم پڑتی ہوئی کہانیوں میں زندہ رہ جاتے ہیں۔اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ان اصولوں اور اقدار کے ذریعے زندہ رہتے ہیں جو وہ دوسروں کی زندگیوں میں بو جاتے ہیں۔میرے والد کا شمار اسی دوسرے گروہ میں ہوتا ہے۔جوں جوں میری عمر بڑھتی جا رہی ہے، میں انہیں پہلے سے زیادہ سمجھنے لگا ہوں۔جتنا زیادہ ان کی زندگی پر غور کرتا ہوں، اتنا ہی ان کی خاموش قوتِ برداشت، دوسروں کے ساتھ ان کے باوقار رویّے، اور ان اخلاقی اصولوں کی قدر میرے دل میں بڑھتی جاتی ہے جنہوں نے ہر فیصلہ کرنے میں ان کی رہنمائی کی۔
ہر سال 3 جولائی کو میں انہی یادوں کی طرف لوٹتا ہوں۔صرف ان کی جدائی پر غم کرنے کے لیے نہیں،بلکہ ان کی زندگی کا جشن منانے کے لیے۔آگے بیان کیے جانے والے چند واقعات انہی یادوں کا حصہ ہیں۔یہ بظاہر سادہ واقعات ہیں، لیکن مل کر ایک ایسے انسان کی شخصیت کو نمایاں کرتے ہیں جس کی سب سے بڑی میراث اس کی دولت نہیں بلکہ وہ خیر تھی جو اس نے دوسروں میں تقسیم کی۔یہ صرف چند جھلکیاں ہیں۔ان میں 1975ءسے 1977ءکے دوران میسا (MISA) کے نفاذ کے زمانے میں دہلی کی تہاڑ جیل اور امبالہ جیل میں ان کی اسیری کے واقعات شامل نہیں ہیں۔سرِورق کی تصویر کے علاوہ اس مضمون میں شامل تمام تصاویر ایک مصور نے انہی واقعات کی بنیاد پر تخلیق کی ہیں، اصل تصویریں نہیں ہیں۔یتیمی کا دکھ اور انسانیت کا سبق کچھ لوگ وراثت میں دولت پاتے ہیں۔کچھ اثر و رسوخ کے وارث بنتے ہیں۔مگر محمد مسلم کو نہ دولت ورثے میں ملی، نہ اقتدار، نہ سماجی حیثیت۔ان کے حصے میں آئی تو محرومی۔اس سے بہت پہلے کہ لوگ انہیں ایک صحافی، مفکر، سماجی مصلح اور انصاف کے علمبردار کے طور پر جانتے، وہ ایک ایسے بچے تھے جس نے بے بسی کا ذائقہ چکھا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ والدین کے سائے سے محروم ہونا کیا معنی رکھتا ہے؛ غیر یقینی مستقبل کا خوف کیا ہوتا ہے؛ دوسروں پر انحصار کی اذیت کیا ہوتی ہے؛ اور وہ خاموش دکھ کیسا ہوتا ہے جو یتیمی کے ساتھ زندگی بھر انسان کے دل میں رہتا ہے۔یتیمی کے زخم کبھی پوری طرح مندمل نہیں ہوتے۔وہ دل کی تہوں میں پوشیدہ رہتے ہیں اور انسان کی شخصیت کو ایسے انداز میں تشکیل دیتے ہیں جسے مکمل طور پر صرف اللہ ہی جانتا ہے۔مصیبت کے سامنے انسان کے دو راستے ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ وہ سخت دل ہو جائے۔دوسرا یہ کہ اس کا دل اور زیادہ نرم ہو جائے۔محمد مسلم نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔اپنی زندگی کے ابتدائی دکھوں نے انہیں ایک ایسا سبق سکھایا جو آخر دم تک ان کی زندگی کا رہنما بنا رہا:ہر بے سہارا انسان کسی کا بیٹا یا بیٹی ہے۔ہر یتیم عزت اور احترام کا مستحق ہے۔اور ہر انسان اپنے اندر وہ حرمت رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے۔قرآن مجید بار بار اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے فرماتاہے:’کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر آپ کو ٹھکانا دیا؟‘
(الضحیٰ: 6)یہ آیت رسول اکرم ﷺکی اپنی یتیمی کی یاددلاتی ہے،لیکن اسکاپیغام پوری انسانیت کےلئے ہے۔جس شخص نے کبھی کسی کی شفقت پائی ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کے لیے بھی رحمت کا ذریعہ بنے۔اسی لیے قرآن حکم دیتا ہے:’پس یتیم پر سختی نہ کرو۔‘(الضحیٰ: 9)اور ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:’وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے: ان کی اصلاح کرنا ہی بہتر ہے۔(البقرہ: 220)محمد مسلم نے ان آیات کو صرف پڑھا یا نقل نہیں کیا۔انہوں نے انہیں جیا۔اپنی پوری زندگی میں انہوں نے مذہب، ذات، برادری اور سماجی حیثیت کی تمام دیواریں عبور کرکے ان لوگوں کی خدمت کی جنہیں معاشرے نے فراموش کر دیا تھا۔ان کی زندگی کے چار واقعات اس اخلاقی بصیرت کی روشن شہادت ہیں جس نے ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی۔
وہ پہلوان جس کا کوئی وارث نہ تھا
سن 1947ءتھا۔برصغیر تقسیم کے دہانے پر کھڑا تھا۔سیاسی کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔افواہیں ایک شہر سے دوسرے شہر تک پھیل رہی تھیں۔صدیوں سے ساتھ رہنے والی آبادیاں ایک دوسرے پر بدگمان ہوتی جا رہی تھیں۔بہت سی جگہوں پر انسان کی مذہبی شناخت اس کی انسانیت سے زیادہ اہم سمجھی جانے لگی تھی۔انہی پرآشوب دنوں میں بھیلسہ—جو آج ودیشا کے نام سے جانا جاتا ہے—کا ایک ہندو پہلوان کشتی کے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے بھوپال آیا۔مگر وہ کبھی اپنے گھر واپس نہ جا سکا۔بھوپال پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد وہ شدید بیمار پڑ گیا اور اسے اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکا۔اس کی موت نے ایک غیر متوقع مسئلہ پیدا کر دیا۔وہ تنہا آیا تھا۔اس کے ساتھ خاندان کا کوئی فرد نہ تھا۔اس کا کوئی پتہ دستیاب نہ تھا۔کوئی ایسا شخص بھی نہ ملا جس سے اس کے اہلِ خانہ تک خبر پہنچائی جا سکے۔یوں اس کی میت بے وارث پڑی رہی۔دن گزرتے گئے اور مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔مقامی ہندو برادری کے بعض افراد آخری رسومات ادا کرنے سے اس لیے ہچکچا رہے تھے کہ کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ مرنے والا کس ذات سے تعلق رکھتا تھا۔
اس زمانے کے سماجی رسم و رواج بہت سے لوگوں کو ذمہ داری قبول کرنے سے روکتے تھے۔وہ نوجوان جو مقابلہ کشتی جیتنے آیا تھا، اب اپنی موت کے بعد بھی تنہا پڑا تھا۔محمد مسلم یہ منظر برداشت نہ کر سکے۔ان کے نزدیک موت انسانوں کے درمیان قائم تمام مصنوعی تفریقوں کو مٹا دیتی ہے۔انسان، انسان ہوتا ہے۔اس کی عزت نہ اس کے مذہب کی محتاج ہے، نہ ذات کی، نہ سماجی مرتبے کی۔انہوں نے ایک ہندو پنڈت سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ مرحوم کی مذہبی روایت کے مطابق آخری رسومات ادا کی جائیں۔تمام اخراجات انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیے۔پھر بھوپال نے ایک ایسا منظر دیکھا جسے لوگوں نے برسوں یاد رکھا۔چار داڑھی والے مسلمان ایک گمنام ہندو کی ارتھی اپنے کندھوں پر اٹھائے شمشان گھاٹ کی طرف جا رہے تھے۔راستے میں لوگ رک جاتے۔حیرت سے انہیں دیکھتے رہتے۔ایک طرف پورا ملک مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہو رہا تھا۔اور دوسری طرف چند مسلمان ایک اجنبی ہندو کو پوری عزت اور احترام کے ساتھ اس کی آخری منزل تک پہنچانے جا رہے تھے۔راستے میں نمازِ ظہر کا وقت ہو گیا۔انہوں نے قریب کی مسجد میں جا کر نماز ادا کی۔پھر وہیں سے دوبارہ روانہ ہوئے اور شمشان گھاٹ پہنچ کر اس کی آخری رسومات مکمل کروائیں۔نفرت کے بڑھتے ہوئے اندھیروں میں محمد مسلم نے انسانیت کا ایک چراغ روشن کیا۔اس پہلوان کا نام شاید تاریخ کے صفحات سے مٹ گیا ہو،لیکن اس کے ساتھ کیا گیا یہ حسنِ سلوک آج بھی زندہ ہے۔
بنگال کا یتیم
اگر تقسیمِ ہند انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرتوں میں سے ایک تھی، تو بنگال کا قحط اس کی المناک ترین انسانی سانحات میں شمار ہوتا ہے۔1943ئ اور 1944ئ کے درمیان اندازاً تیس لاکھ انسان بھوک، بیماری اور قحط سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔پورے کے پورے گاو¿ں صفح? ہستی سے مٹ گئے۔بچے گلیوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر روٹی کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے تھے۔مائیں بے بسی سے دیکھتی رہیں کہ بھوک کس طرح ان کے جگر گوشوں کو آہستہ آہستہ نگل رہی ہے۔بنگال کی سڑکیں انسانی بے بسی اور محرومی کی علامت بن چکی تھیں۔
انہی امدادی سرگرمیوں کے دوران محمد مسلم کی نظر ایک ایسے شیر خوار بچے پر پڑی جس کی زندگی تو بچ گئی تھی، مگر اس کی دنیا اجڑ چکی تھی۔کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس کے والدین کون تھے۔کسی کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کس گاو¿ں یا کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔حتیٰ کہ اس کے مذہب تک کا علم نہ تھا۔وہ صرف ایک بھوکا، بے سہارا بچہ تھا۔محمد مسلم نے مقامی لوگوں سے اپیل کی کہ کوئی اس بچے کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا لے۔لوگوں نے ہمدردی کا اظہار تو کیا، لیکن ذمہ داری قبول کرنے پر کوئی آمادہ نہ ہوا۔آخرکار محمد مسلم نے خود فیصلہ کر لیا۔انہوں نے اس نومولود کو اپنے ساتھ بھوپال لے جانے اور اپنی اولاد کی طرح پرورش کرنے کا ارادہ کر لیا۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی اس بچے پر احسان جتانے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے اسے خیرات کا محتاج نہیں سمجھا۔انہوں نے کبھی اس کی شناخت یا مذہب کو اپنی شفقت کی شرط نہیں بنایا۔انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ ایک انسان مدد کا محتاج ہے۔اس بچے کو کھانا ملا۔تعلیم ملی۔تحفظ ملا۔اور سب سے بڑھ کر محبت ملی۔برسوں بعد جب وہ جوان ہوا تو محمد مسلم نے اس کی شادی بھی اپنے ہاتھوں سے کرائی۔اور جب اس نے اپنا گھر بسانا چاہا تو اپنی زمین کا ایک حصہ اسے دے دیا تاکہ وہ عزت کے ساتھ اپنی زندگی شروع کر سکے۔ایک بے آسرا شیر خوار کی زندگی بچانے کا عمل رفتہ رفتہ ایک پورے مستقبل کی تعمیر میں بدل گیا۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا:میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔یہ فرما کر آپ ﷺنے اپنی شہادت کیاوردرمیانی انگلی کوملادیا۔(صحیح بخاری)محمد مسلم اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے کہ یتیم کی کفالت محض وقتی ہمدردی کا نام نہیں۔یہ ایک انسان کی عزت، شخصیت اور مستقبل کی پوری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے کا نام ہے۔
وہ بیٹی جسے انہوں نے خود چنا
ایک اور بچی بھی اسی طرح غیر معمولی حالات میں محمد مسلم کی زندگی کا حصہ بنی۔دہلی میں اپنے سادہ سے فلیٹ میں رہنے کے زمانے کی بات ہے۔ایک شام وہ گھر واپس آئے تو ان کے ساتھ ایک نحیف و نزار لڑکی بھی تھی۔انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے گرد جمع کیا اور نہایت سکون سے کہا:آج سے یہ تمہاری بہن ہے اور ہمارے ساتھ رہے گی۔گھر والے حیران رہ گئے۔یہ لڑکی کون ہے؟کہاں سے آئی ہے؟اس کی کہانی کیا ہے؟رفتہ رفتہ اس کی زندگی کے حالات سامنے آئے۔وہ بچپن ہی میں اپنے والدین سے بچھڑ گئی تھی۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کے ماں باپ کون تھے۔چونکہ اس کی اصل شناخت معلوم نہ تھی، اس لیے اسے ایک ہندو یتیم خانے میں داخل کر دیا گیا، جہاں یہ سمجھا گیا کہ شاید اس کا تعلق کسی ہندو خاندان سے ہے۔کئی برس بعد کچھ ایسے شواہد سامنے آئے جن سے معلوم ہوا کہ اس کے والدین دراصل مسلمان تھے۔رشتہ داروں کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔آخرکار یتیم خانے کے منتظم نے محمد مسلم سے رابطہ کیا۔اس نے کہا:اگر کوئی ذمہ داری لینے والا نہ ملا تو یہ بچی پوری زندگی اسی ادارے میں پرورش پائے گی۔محمد مسلم نے یہ نہیں پوچھا کہ اس پر کتنا خرچ آئے گا۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس سے گھر میں کتنی دشواری پیدا ہوگی۔انہوں نے صرف اتنا کہا:اگر اس کا کوئی گھر نہیں ہے، تو ہمارا گھر اس کا گھر ہے۔یوں وہ لڑکی اس خاندان کا حصہ بن گئی۔بطور مہمان نہیں۔بطور خیرات نہیں۔بلکہ ایک بیٹی کی حیثیت سے۔بعد میں وہ بھوپال منتقل ہوئی اور محمد مسلم کے بڑے بھائی غیور حسن کے گھر رہنے لگی۔دونوں بھائیوں نے مل کر اس کی تعلیم کا بندوبست کیا، اس کی ضروریات پوری کیں اور اس کی عزتِ نفس کی حفاظت کی۔لیکن ان کا سب سے بڑا احسان یہ تھا کہ انہوں نے کبھی اس کی شناخت کو اس کے ماضی سے وابستہ نہیں کیا۔انہوں نے کبھی کسی کے سامنے یہ نہیں کہا کہ یہ ایک لاوارث بچی تھی۔انہوں نے کبھی اس کی محرومی کو اس کے لیے شرمندگی کا سبب نہیں بننے دیا۔انہوں نے اسے وہ چیز عطا کی جس کا ہر بچہ حق دار ہے۔ایک محفوظ مستقبل۔وقت گزرتا گیا۔اس نے اپنی تعلیم مکمل کی۔اس کی شادی ہوئی۔اور اس نے اپنا خاندان آباد کر لیا۔ایک ایسی لڑکی، جسے دنیا نے بھلا دیا تھا، اس کے لیے محمد مسلم اللہ کی اس رحمت کا ذریعہ بنے جس کی دعا شاید وہ خود بھی کبھی نہ کر سکی تھی۔
پہلے مجھے قتل
کرنا ہوگاچوتھا واقعہ دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران پیش آیا۔یہ وہ دن تھے جب افواہیں آگ کی طرح پھیلتی تھیں اور غصہ عقل و شعور پر غالب آ جاتا تھا۔خبر پھیلی کہ ایک مسلمان، جو ایک ہندو اکثریتی علاقے سے گزر رہا تھا، قتل کر دیا گیا ہے۔یہ اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پورے محلے میں پھیل گئی۔لوگوں کے دل غم اور غصے سے بھر گئے۔ہر طرف انتقام کی باتیں ہونے لگیں۔اسی دوران ایک ہندو شخص، جو ان واقعات سے بے خبر تھا، مسلمانوں کی آبادی والے علاقے میں آ نکلا۔لوگوں نے اسے گھیر لیا۔ہجوم میں سے کچھ آوازیں بلند ہوئیں:اسے جانے نہ دو۔اس کا بدلہ لیا جائے۔وہ شخص خوف سے کانپ رہا تھا۔اس کا کسی قتل سے کوئی تعلق نہ تھا۔اس نے کسی کا خون نہیں بہایا تھا۔اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ اس مذہب سے تعلق رکھتا تھا جس کے بعض افراد نے کہیں اور ایک سنگین جرم کیا تھا۔مگر مشتعل ہجوم میں فرد کی بے گناہی سے زیادہ اس کی اجتماعی شناخت دیکھی جا رہی تھی۔
جوں جوں کشیدگی بڑھتی گئی، محمد مسلم وہاں پہنچ گئے۔انہوں نے صورتِ حال کو ایک نظر دیکھا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس شخص اور ہجوم کے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے۔انہوں نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔یہ شخص بے گناہ ہے، انہوں نے کہا۔اس نے کسی کو قتل نہیں کیا۔لیکن غصہ دلیل سننے کے لیے تیار نہ تھا۔ہجوم اپنے فیصلے پر اڑا ہوا تھا۔تب محمد مسلم نے وہ جملہ کہا جس نے پورے مجمع کو خاموش کر دیا۔انہوں نے نہایت مضبوط لہجے میں کہا:اگر تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو، تو پہلے مجھے قتل کرنا ہوگا۔یہ محض جذباتی نعرہ نہ تھا۔وہ اپنے ہر لفظ میں سچے تھے۔وہ جانتے تھے کہ اگر ہجوم اپنے ارادے پر قائم رہا تو شاید ان کی اپنی جان بھی چلی جائے۔لیکن انہوں نے اپنے قدم پیچھے نہ ہٹائے۔اب اگر اس بے گناہ شخص تک پہنچنا تھا تو پہلے محمد مسلم کی لاش سے گزرنا پڑتا۔ایک فرد کی اخلاقی جر?ت وہ کام کر گئی جو سینکڑوں دلیلیں نہ کر سکیں۔ہجوم رک گیا۔اس کا غصہ ٹھنڈا پڑنے لگا۔انتقام کی آگ آہستہ آہستہ بجھ گئی۔اور وہ بے گناہ انسان زندہ واپس اپنے گھر پہنچ سکا۔اس دن محمد مسلم نے قرآن کی اس تعلیم کو اپنی عملی زندگی میں مجسم کر دیا:جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔
(المائدہ: 32)یہ آیت اس روز صرف تلاوت نہیں کی گئی۔اسے ایک انسان نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر زندہ کر دکھایا۔وہ دین جس پر وہ عمل کرتے تھےیہ واقعات محض چند نیکیاں یا اتفاقی حسنِ سلوک کی مثالیں نہیں ہیں۔یہ ایک مکمل طرزِ فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔محمد مسلم کے نزدیک اسلام صرف عبادات، عقائد یا ایک مذہبی شناخت کا نام نہیں تھا۔وہ اسلام کو اللہ کی مخلوق کے سامنے اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ان کے نزدیک ایمان کا معیار صرف نماز، روزہ یا ظاہری عبادت نہ تھا۔اصل معیار یہ تھا کہ انسان کمزوروں، محروموں، بھولے بسروں اور ان لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے جن سے اسے دنیاوی فائدہ حاصل ہونے کی کوئی امید نہ ہو۔رسول اللہ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہوں۔’غور کیجیے، حدیث میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ اپنے خاندان کے لیے۔یہ بھی نہیں فرمایا کہ اپنی قوم کے لیے۔یا صرف اپنے مذہب والوں کے لیے۔فرمایا:لوگوں کے لیے۔‘یہی ایک لفظ محمد مسلم کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔
جب بھوپال میں ایک ہندو پہلوان بے وارث مر گیا تو محمد مسلم نے اس کی آخری رسومات عزت و احترام کے ساتھ ادا کروائیں۔جب بنگال کے قحط نے ایک شیر خوار بچے کو یتیم بنا دیا تو انہوں نے اسے اپنا بیٹا بنا کر پرورش کی۔جب ایک بے سہارا بچی مستقبل کے اندھیروں میں کھڑی تھی تو اسے اپنی بیٹی بنا کر گھر لے آئے اور اپنے بچوں سے کہا:آج سے یہ تمہاری بہن ہے۔اور جب ایک بے گناہ ہندو شخص مشتعل ہجوم کے سامنے موت کے دہانے پر کھڑا تھا تو محمد مسلم اس کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے اور اعلان کیا:اگر اسے قتل کرنا ہے تو پہلے مجھے قتل کرنا ہوگا۔لیکن شاید ان کی شخصیت کا سب سے بڑا امتحان عوامی زندگی میں نہیں، بلکہ اپنے گھر کے اندر آیا۔نہ فسادات کے دوران۔نہ خدمتِ خلق کے میدان میں۔بلکہ خاندان کے اندر، جہاں اکثر محبت کا امتحان جائیداد سے لیا جاتا ہے۔
بھائی سے بڑھ کر کوئی حق نہیں
محمد مسلم نے جس طرح اجنبیوں کی عزت و حرمت کی حفاظت کی، اسی طرح اپنے خاندان کے افراد کے احترام کو بھی ہمیشہ مقدم رکھا۔عمر کے ساتھ ساتھ جب وہ اور ان کے بڑے بھائی غیور حسن زندگی کے اس مرحلے میں پہنچے جہاں آبائی جائیداد کی تقسیم ناگزیر ہو گئی، تو ایک ایسا معاملہ سامنے آیا جو دنیا بھر میں بے شمار خاندانوں کو توڑ چکا ہے۔وراثت۔یہ وہ آزمائش ہے جس میں اکثر وہ بھائی، جو بچپن میں ایک ہی چھت کے نیچے کھیلتے، ایک ہی دسترخوان پر کھاتے اور ایک دوسرے کے خوابوں میں شریک ہوتے ہیں، اچانک ایک دوسرے کے مخالف بن جاتے ہیں۔کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جنہیں غربت تقسیم نہ کر سکی، مگر جائیداد نے بکھیر دیا۔زمین کے چند ٹکڑوں نے وہ رشتے ختم کر دیے جنہیں محبت نے برسوں میں پروان چڑھایا تھا۔
محمد مسلم اور غیور حسن نے فیصلہ کیا کہ وراثت کی تقسیم کسی غیر جانب دار شخص کے ذریعے کرائی جائے تاکہ انصاف پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔قرعہ اندازی ہوئی۔قسمت کا فیصلہ یہ تھا کہ زیادہ قیمتی حصہ—وہی مکان جس میں غیور حسن نے اپنی زندگی کے کئی برس گزارے تھے—محمد مسلم کے حصے میں آیا۔غیور حسن نے بلا تردد اس فیصلے کو قبول کر لیا۔انہوں نے کہا کہ وہ گھر خالی کر دیں گے۔لیکن محمد مسلم نے فوراً انکار کر دیا۔بڑے بھائی نے سمجھایا:’تقسیم پوری دیانت داری اور انصاف کے ساتھ ہوئی ہے۔محمد مسلم نے جواب دیا:صرف انصاف کافی نہیں ہوتا۔پھر انہوں نے وہ جملہ کہا جو ان کے دل کی پوری کیفیت بیان کر دیتا ہے۔‘وہ میرے بڑے بھائی ہیں۔ میں انہیں اس گھر سے کیسے نکلنے کے لیے کہہ سکتا ہوں جہاں انہوں نے اپنی عمر کا اتنا بڑا حصہ گزارا ہے؟معاملہ ثالث تک جا پہنچا۔لیکن محمد مسلم اپنے مو¿قف سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے۔ان کے نزدیک یہ مسئلہ جائیداد کا نہیں تھا۔یہ احترام کا مسئلہ تھا۔احسان شناسی کا مسئلہ تھا۔بھائی کے حق کا مسئلہ تھا۔اور سب سے بڑھ کر محبت کا مسئلہ تھا۔آخرکار غیور حسن نے اپنے چھوٹے بھائی کی خواہش قبول کر لی اور اسی گھر میں رہتے رہے جسے وہ برسوں سے اپنا گھر کہتے آئے تھے۔شاید دنیا کی تاریخ میں یہ جائیداد کا ایک انوکھا ترین تنازع تھا۔جہاں دونوں بھائی زیادہ لینے کے لیے نہیں، بلکہ زیادہ دینے کے لیے اصرار کر رہے تھے۔
ان کی اصل میراث
جس شخص نے ایک بے گناہ اجنبی کی جان بچانے کے لیے اپنی جان داو¿ پر لگا دی تھی، وہی شخص اپنے بڑے بھائی کی عزتِ نفس کی حفاظت کے لیے بھی اسی طرح کھڑا رہا۔جس دل نے یتیم بچوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے، وہی دل وراثت کے معاملے میں بھی محبت سے خالی نہ ہوا۔محمد مسلم کے نزدیک رشتے کبھی بھی جائیداد سے کم اہم نہیں تھے۔انسان، سامان سے بڑھ کر تھا۔عزت، قانونی حق سے بلند تھی۔اور محبت، ملکیت سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔ان کی پوری زندگی گویا قرآن کی اس آیت کی عملی تفسیر تھی:اور یقیناً ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے۔‘
(بنی اسرائیل: 70)قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس آیت میں صرف مسلمانوں کا ذکر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے بنی آدم فرمایا ہے۔یعنی ہر انسان۔شاید یہی وہ سبق تھا جو محمد مسلم نے اپنی یتیمی کے تجربے سے سیکھا تھا۔جو بچپن میں بے سہارا رہا ہو، وہ دوسروں کی بے بسی کو جلد پہچان لیتا ہے۔جس دل نے خود محرومی دیکھی ہو، وہ دوسروں کے دکھ سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔جس درد نے کسی اور کو تلخ مزاج بنا دینا تھا، اسی درد نے محمد مسلم کے اندر رحمت، شفقت اور انسان دوستی پیدا کر دی۔ایک ایسی میراث جو باقی رہتی ہے
تاریخ عموماً بادشاہوں، حکمرانوں، جرنیلوں، سیاست دانوں اور دولت مندوں کو یاد رکھتی ہے۔ان کے نام یادگاروں پر کندہ کیے جاتے ہیں۔کتابوں کے صفحات ان کے ذکر سے بھر جاتے ہیں۔لیکن عظمت کی ایک اور قسم بھی ہوتی ہے۔ایسی عظمت جسے شہرت کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ ان لوگوں کی عظمت ہے جو خاموشی سے وہاں عزت بحال کرتے ہیں جہاں عزت پامال ہو چکی ہو۔جو انتقام کے بجائے رحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔جو خود غرضی کے بجائے ایثار کو ترجیح دیتے ہیں۔جو جائیداد پر انسان کو مقدم رکھتے ہیں۔محمد مسلم ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔وہ ایک ایسے زمانے میں زندہ رہے جس پر قحط، تقسیمِ ہند، فرقہ وارانہ فسادات، سماجی تعصب اور سیاسی ہنگاموں کے گہرے سائے تھے۔لیکن ان تمام آزمائشوں کے درمیان وہ ایک سادہ مگر عظیم یقین پر قائم رہے:ہر انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عزت کا حامل ہے۔خواہ وہ بھوپال کا ایک گمنام ہندو پہلوان ہو،یا بنگال کا ایک یتیم شیر خوار،یا ایک بے سہارا بچی،یا مشتعل ہجوم میں گھرا ہوا ایک بے گناہ راہ گیر،یا پھر وراثت کی تقسیم کے وقت سامنے بیٹھا ہوا اپنا بڑا بھائی—محمد مسلم کا جواب ہر بار ایک ہی تھا۔انہوں نے انسان کو چنا۔انہوں نے رحم کو چنا۔انہوں نے محبت کو چنا۔اور اسی لیے آج، ان کی چھوڑی ہوئی جائیداد، ان کے استعمال کی ہوئی اشیائ ، اور ان کے عہد کے تمام تنازعات وقت کے ساتھ ماند پڑ چکے ہیں،لیکن ان کی مثال آج بھی زندہ ہے۔بعض لوگ دنیا سے دولت چھوڑ کر جاتے ہیں۔بعض اقتدار اور اثر و رسوخ چھوڑ جاتے ہیں۔لیکن محمد مسلم نے اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیز چھوڑی—انہوں نے ایک نمونہ عمل چھوڑا۔اور یہی وہ میراث ہے جو نسلوں تک انسانوں کے دلوں کو روشنی دیتی رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan