
دہرادون، یکم جولائی (ہ س)۔ مسلم سیوا سنگٹھن نے اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کو ختم کیے جانے کے ریاستی حکومت کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے عہدیداروں نے بدھ کے روز ضلع مجسٹریٹ دہرادون کے ذریعے ریاستی حکومت کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔
تنظیم کے صدر نعیم قریشی نے کہا کہ مدارس صرف دینی تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ اخلاقی تربیت، نظم و ضبط اور سماجی اقدار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے اثرات ریاست کے ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور ان سے وابستہ خاندانوں پر پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے میں بے ضابطگیاں موجود ہیں تو انہیں اصلاحی اقدامات کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے، نہ کہ پورے نظام کو ہی ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کر کے اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی۔
تنظیم کے نائب صدر عاقب قریشی نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی فیصلے کا سب سے زیادہ اثر طلبہ کے مستقبل پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسا حل نکالنا چاہیے جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو اور تعلیمی نظام بلا رکاوٹ جاری رہے۔ انہوں نے مدارس کے نمائندوں، اساتذہ، والدین اور ماہرینِ تعلیم سے جامع مشاورت کے بعد ہی حتمی فیصلہ کرنے کی اپیل کی۔
میمورنڈم میں تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے، بے ضابطگیوں کو شفاف اور قانونی طریقے سے دور کیا جائے، اور طلبہ و اساتذہ کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
تنظیم نے کہا کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تعلیم اور سماجی مفاد سے متعلق مسائل کو جمہوری اور پُرامن طریقے سے اٹھاتی رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد