
ممبئی، یکم جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ (مہاوترن) نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں بجلی صارفین کے لیے اسمارٹ میٹر نصب کرانا لازمی نہیں ہے۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ گھریلو صارفین کے لیے پری پیڈ میٹر نصب نہیں کیے جا رہے اور نہ ہی پوسٹ پیڈ اسمارٹ میٹر کی تنصیب کسی پر زبردستی کی جا رہی ہے۔مہاوترن کے سینئر حکام کے مطابق ریاست بھر میں اب تک تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ اسمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں، جن میں سے صرف پونے ریجن میں 14 لاکھ 72 ہزار اسمارٹ میٹر فعال ہیں۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ ان میٹروں کے ذریعے بجلی کے استعمال کی زیادہ درست ریڈنگ حاصل ہوتی ہے، جس سے بلنگ کا نظام مزید شفاف اور قابل اعتماد بنتا ہے۔حکام نے بتایا کہ اسمارٹ میٹر نصب ہونے کے بعد صارفین موبائل ایپ کے ذریعے ہر گھنٹے کی بنیاد پر اپنی بجلی کی کھپت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس سہولت سے نہ صرف بجلی کے استعمال پر مؤثر نگرانی ممکن ہوتی ہے بلکہ بجلی کے بل میں شفافیت بھی بڑھتی ہے۔ صارفین یہ بھی جان سکتے ہیں کہ دن کے کس حصے میں کتنی بجلی استعمال ہوئی، جبکہ گھر یا دفتر میں بجلی کے رساؤ یا غیر معمولی استعمال کی بروقت نشاندہی بھی ممکن ہو جاتی ہے۔مہاوترن کے مطابق گھریلو صارفین اگر صبح 9 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان زیادہ بجلی استعمال کریں تو انہیں فی یونٹ 85 پیسے کی رعایت دی جاتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد دن کے اوقات میں بجلی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا اور صارفین کو مالی فائدہ پہنچانا ہے۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ اسمارٹ میٹر نصب کرنے کے لیے صارفین سے کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ اگر میٹر میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اسے تبدیل کرنے کی ذمہ داری بھی مہاوترن ہی کی ہوتی ہے۔ البتہ بعض مخصوص مرمتی معاملات میں معمولی فیس وصول کی جا سکتی ہے۔ حکام کے مطابق تمام اسمارٹ میٹر صرف مجاز جانچ مراکز سے تصدیق اور تکنیکی جانچ کے بعد ہی نصب کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی درستگی اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔مہاوترن نے مزید بتایا کہ نئے اسمارٹ میٹروں کی بنیادی کارکردگی روایتی میٹروں جیسی ہی ہے، تاہم آن لائن ڈیٹا کی بروقت ترسیل اور اپ ڈیٹ کے لیے ان میں سم کارڈ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت یہ میٹر زیادہ محفوظ، درست اور شفاف نظام فراہم کرتے ہیں، جس سے صارفین کو اپنی بجلی کی کھپت پر بہتر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے