
شولاپور ، یکم جولائی (ہ س)۔ شولاپور کے سرو دھرم ایکتا منچ نے مبینہ طور پر اسلام کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازیہ الٰہی خان کی جانب سے دیے گئے متنازع بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے پولیس کمشنر ایم راج کمار کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے متعلقہ شخص کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعلقہ ویڈیو کی فارنسک جانچ کرائی جائے تاکہ اس کی صداقت کی تصدیق ہو سکے۔ اگر ابتدائی تحقیقات میں کسی جرم کے شواہد سامنے آئیں تو بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔ تنظیم نے مزید مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور تیز رفتار تحقیقات کرائی جائیں اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری احتیاطی اور حفاظتی اقدامات بھی کیے جائیں تاکہ کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو۔اس موقع پر سرو دھرم ایکتا منچ کے بانی صدر رسول پٹھان نے کہا کہ کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات یا مذہبی عقائد کے بارے میں قابل اعتراض بیانات دے کر سماجی ہم آہنگی اور مذہبی بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں قانون کے مطابق مناسب کارروائی ہونا ضروری ہے تاکہ معاشرے میں امن اور باہمی احترام برقرار رہے۔یادداشت پیش کرنے کے موقع پر مختلف برادریوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے، جن میں داس جی شیلکے (مرہٹا سماج)، وجے کمار ہتورے (لنگایت سماج)، سنجے بابا شندے (چرمکار سماج)، شنکر چوگلے (وڈار سماج)، گنیش کولی (کولی سماج)، آنند چندن شیوے (بودھ سماج)، دیویندر بھنڈارے (موچی سماج)، انیل وسام (پدماشالی سماج)، اجیت کلکرنی (برہمن سماج)، یوراج راٹھوڑ (بنجارا سماج)، راج سلگر (دھنگر سماج)، شیام دھوری (بیڈر سماج)، پوپت سنگھ ٹاکا (سکھ سماج)، پراگ شاہ (جین سماج)، ولاس کٹک دوند (ڈھور سماج)، منو سنگھ بابا والے (لودھی سماج)، تشار کھندارے (ماتنگ سماج)، ناگیش گائیکواڑ (کیکاڈی سماج)، رسول پٹھان اور فاروق شیخ سمیت مختلف سماجی و مذہبی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔سرو دھرم ایکتا منچ نے اپنی یادداشت میں اس بات پر زور دیا کہ مذہبی ہم آہنگی، سماجی امن اور قانون کی بالادستی کو ہر حال میں برقرار رکھا جانا چاہیے۔ تنظیم نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے تاکہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے جذبات مجروح نہ ہوں اور سماجی ہم آہنگی برقرار رہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے