
سیوان، یکم جولائی (ہ س)۔ سیوان ضلع کے پچروکھی تھانہ علاقے کے گوپال پور چنور میں بدھ کی صبح 35 سالہ شخص کی بوسیدہ لاش ملی، جس سے پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ کھیتوں کی طرف جانے والے گاؤں والوں نے لاش کو دیکھا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور جائے وقوعہ سے ملنے والے آدھار کارڈ کی بنیاد پر مقتول کی شناخت حامد علی عرف ببلو (35) ولد طیب علی ساکن محمد پور کے طور پر کی۔اہل خانہ نے بتایا کہ حامد علی تقریباً دو ہفتوں سے لاپتہ تھے۔ اس کے والد نے 18 جون کو پچروکھی تھانہمیں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ کافی تلاش کے باوجود اس کا کہیں پتہ نہیں چلا۔ بدھ کے روز ان کی لاش کی اطلاع ملتے ہی اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔
پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے صدر اسپتال بھیج دیا۔ جائے وقوعہ سے متوفی کا پرس، چپل، آدھار کارڈ اور بنیان برآمد ہوئی ہے۔ لاش کافی حد تک گل چکی تھی جس کی وجہ سے موت کی وجہ کا فوری طور پر تعین کرنا ناممکن تھا۔مقتول کے لواحقین نے قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حامد علی کو قتل کرکے لاش ندی میں پھینک دی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جسم پر کسی قسم کا کیمیکل ڈالا گیا ہو گا تاکہ اسے جلد گلایا جا سکے۔حامد علی پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور چھٹا تھا۔ 8 بھائیوں میں چوتھے نمبر کا تھا، اس کے تین چھوٹے بچے ہیں۔جائے وقوعہ پر پہنچی فرانزک ٹیم نے ضروری شواہد اور نمونے اکٹھے کر لیے۔ پچروکھی تھانہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک تحقیقات کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی اور معاملے کو جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan