
ممبئی ، یکم جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے محکمہ صحت میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے کے لیے پانچ ہزار نئی اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دے دی ہے۔ ریاستی کابینہ کے فیصلے کے مطابق اسی ہفتے سے بھرتی کا عمل تیز کیا جائے گا، جبکہ پہلے مرحلے میں 1400 ڈاکٹروں کی تقرری کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد مزید 600 ڈاکٹروں کی بھرتی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق 1900 کمیونٹی ہیلتھ آفیسرز کی اسامیاں بھی جلد پُر کی جائیں گی۔ یہ اعلان ریاستی وزیر صحت پرکاش ابیٹکر نے بدھ کے روز اسمبلی میں کیا۔
اسمبلی کے سوالات کے وقفے کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی سدھیر منگنٹیوار اور دیگر اراکین نے محکمہ صحت میں بڑی تعداد میں خالی اسامیوں کا معاملہ اٹھایا، جس کے جواب میں وزیر صحت نے کہا کہ حکومت نے ریاست بھر میں خالی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کرنے کے لیے ضروری فیصلے کر لیے ہیں اور اسی ہفتے سے بھرتی کے عمل کو تیز رفتار بنایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ذیلی ضلعی اسپتالوں کے لیے زیر التوا فنڈ بھی ایک ہفتے کے اندر جاری کر دیے جائیں گے۔ کئی مقامات پر اسپتالوں کی عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں، تاہم ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی کمی کے باعث وہاں طبی خدمات شروع نہیں ہو سکیں۔ نئی تقرریوں اور ڈاکٹروں کے نئے عہدوں کی منظوری کے بعد ریاست کے تمام اسپتالوں میں مطلوبہ طبی عملہ، ضروری طبی آلات اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آ سکیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ حکومت نے اسپتالوں کی تعمیر اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ترجیحات بھی طے کر دی ہیں۔ جن منصوبوں کا 50، 70، 75 یا 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر فنڈ فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ جلد مکمل ہو کر عوام کے لیے دستیاب ہو سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بنیادی مراکز صحت کی عمارتوں کے لیے مرکزی حکومت کے قواعد کے مطابق فنڈ دستیاب ہیں، تاہم ضرورت کے مطابق فنڈز کا ازسرنو جائزہ لینے اور ان میں اضافے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
پرکاش ابیٹکر نے کہا کہ اگر کورونا وبا کے دوران خدمات انجام دینے والی آشا ورکرس، آنگن واڑی کارکنان اور دیگر کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں یا بقایا جات واجب الادا ہیں تو انہیں ترجیحی بنیادوں پر ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں، پراویڈنٹ فنڈ اور ای ایس آئی سی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ دو سے تین تنظیموں کو پہلے ہی بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر ایسی ایجنسیوں کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں گے تاکہ ملازمین کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے