ہریانہ کے سی ایم آفس اور چنڈی گڑھ ایئر فورس اسکول سمیت دیگر اسکولوں کو بم کی دھمکی
چنڈی گڑھ ، یکم جولائی (ہ س)۔ ایک بار پھر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی کے دفتر اور چنڈی گڑھ کے ایئر فورس اسکول سمیت کئی اسکولوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ بدھ کو گرمیوں کی تعطیلات کے بعد اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کا پہلا دن تھا۔ اسکولوں
ہریانہ کے سی ایم آفس اور چنڈی گڑھ ایئر فورس اسکول سمیت دیگر اسکولوں کو بم کی دھمکی


چنڈی گڑھ ، یکم جولائی (ہ س)۔ ایک بار پھر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی کے دفتر اور چنڈی گڑھ کے ایئر فورس اسکول سمیت کئی اسکولوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ بدھ کو گرمیوں کی تعطیلات کے بعد اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کا پہلا دن تھا۔ اسکولوں کے دوبارہ کھلتے ہی دھمکی آمیز ای میلز موصول ہونے سے پولیس انتظامیہ چوکنا ہوگئی۔

یہ دھمکی آمیز میل سیکٹر 37، چنڈی گڑھ میں گورنمنٹ ماڈل سینئر سیکنڈری اسکول (37بی) اور کیندریہ ودیالیہ (سیکٹر 47 ) کو بھیجا گیا تھا۔ میل میں کہا گیا ہے کہ بم دھماکے اور آئی ای ڈی ڈرون چنڈی گڑھ کے تمام اسکولوں میں دوپہر 1:11 بجے اور وزیر اعلیٰ ہریانہ کے دفتر میں دوپہر 3:11 بجے کیے جائیں گے۔

چنڈی گڑھ کے سیکٹر 31 میں واقع ایئر فورس اسکول میں ای میل کے ذریعے بم کی دھمکی ملنے کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں بھی چوکنا ہوگئیں۔ اطلاع ملتے ہی چندی گڑھ پولیس، بم اسکواڈ ، ڈاگ اسکواڈ اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور پورے کیمپس کی مکمل تلاشی لی۔ابتدائی معلومات کے مطابق اسکول انتظامیہ کو دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسکول کیمپس میں بم نصب کیا گیا ہے۔ ای میل کے سورس اور آئی پی ایڈریس کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

دھمکی کے بعد اسکول کیمپس اور اطراف کے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکورٹی بڑھا دی گئی۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر پورے کیمپس کی مکمل تلاشی لی جارہی ہے۔ اس وقت، کسی بھی مشکوک چیز کی دریافت کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔چنڈی گڑھ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور سائبر ماہرین کی مدد سے ای میل بھیجنے والے کی شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ چندی گڑھ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ پولیس ٹیمیں ان اسکولوں اور اداروں کی تحقیقات کر رہی ہیں جہاں سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ تمام ٹیمیں موقع پر تعینات ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande