
نئی دہلی، یکم جولائی (ہ س)۔ دہلی کی ڈپٹی میئر ڈاکٹر مونیکا پنت نے بدھ کو میونسپل کارپوریشن کے ہیڈکوارٹر، سوک سینٹر میں دہلی 2.0 ٹیک ڈائیلاگ کے تحت ملک کی مختلف ریاستوں کے 60 نوجوان اختراع کاروں کے ساتھ بات چیت کی اور شہری انتظامیہ کو مزید موثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی سافٹ ویئر حل کی پیشکش کا مشاہدہ کیا۔
اس موقع پر نوجوان ہنرمندوں نے اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر کے پاورپوائنٹ پریزنٹیشنز کے ذریعے تفصیلی مظاہرے پیش کیے جو کہ ویسٹ مینجمنٹ، ویسٹ سیگریگیشن، پارکنگ مینجمنٹ، ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم (ایچ آر ایم ایس) اور لیبر مینجمنٹ جیسے اہم شعبوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ حل میونسپل آپریشنز کو زیادہ تیز، شفاف، درست اور شہریوں پر مبنی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ڈپٹی میئر ڈاکٹر مونیکا پنت نے نوجوان اختراع کرنے والوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان ٹیکنالوجی کے ذریعے شہری مسائل کا عملی حل پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن اس طرح کے تمام مفید مشوروں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حل کا بغور مطالعہ کرے گی اور کچرے کے انتظام اور دیگر شہری خدمات کی فراہمی میں ان کے استعمال کے امکانات کو تلاش کرے گی۔
ڈپٹی میئر ڈاکٹر مونیکا پنت نے طلباءکی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور نوجوانوں کے درمیان اس قسم کی بات چیت مستقبل کے اسمارٹ اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے شہری نظام کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے نوجوان ٹیلنٹ کو پالیسی سازوں اور انتظامی عہدیداروں سے براہ راست بات چیت کرنے کا موقع فراہم کیا۔ طلباء کی طرف سے پیش کردہ اختراعی مصنوعی ذہانت پر مبنی حل ہندوستان کے نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کے ذریعے شہری نظم و نسق میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مونیکا پنت نے کہا کہ دہلی 2.0 ٹیک ڈائیلاگ کا مقصد نوجوانوں کی اختراعی صلاحیتوں کو گورننس اور انتظامیہ سے جوڑنا ہے اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہری خدمات کو زیادہ موثر، شفاف اور جوابدہ بنانا ہے۔
اس موقع پر دہلی میونسپل کارپوریشن کے ایڈیشنل کمشنر ڈاکٹر ستیندر سنگھ درساوت سمیت کارپوریشن کے سینئر افسران موجود تھے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی