کانگریس کا الیکٹرانک میڈیا کے خلاف احتجاج، ٹی وی ڈیبیٹ اور ذاتی بائٹ سے دوری بنانے کا فیصلہ
کانگریس تین دن کا مَون ستیہ گرہ (خاموش احتجاج) کرے گی، انچارج آرگنائزیشن نے ہدایات جاری کیں بھوپال، یکم جولائی (ہ س)۔ اجین میں مبینہ زمین کی خریداری کے معاملے کو لے کر صوبائی کانگریس نے الیکٹرانک میڈیا کے خلاف تین دن کا علامتی احتجاج درج کرانے
کانگریس کا الیکٹرانک میڈیا کے خلاف احتجاج


کانگریس تین دن کا مَون ستیہ گرہ (خاموش احتجاج) کرے گی، انچارج آرگنائزیشن نے ہدایات جاری کیں

بھوپال، یکم جولائی (ہ س)۔

اجین میں مبینہ زمین کی خریداری کے معاملے کو لے کر صوبائی کانگریس نے الیکٹرانک میڈیا کے خلاف تین دن کا علامتی احتجاج درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس مدت کے دوران اس کے مجاز ترجمان اور نمائندے ٹی وی چینلوں کے مباحثوں (ڈیبیٹس) میں حصہ نہیں لیں گے اور ذاتی طور پر کوئی سرکاری بیان (آفیشل بائٹ) بھی نہیں دیں گے۔ اس دوران کانگریس ’مَون ستیہ گرہ‘ کرے گی۔

صوبائی کانگریس کمیٹی کے انچارج آرگنائزیشن جنرل سکریٹری ڈاکٹر سنجے کملے کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور ان کے خاندان سے متعلق زمین کے مبینہ معاملے کو الیکٹرانک میڈیا میں مروجہ روایت کے مطابق مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر نہ تو کافی کوریج کی گئی اور نہ ہی سنجیدہ بحث کا انعقاد کیا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عوامی مفاد اور جوابدہی سے منسلک اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر بحث ہو رہی ہے، لیکن الیکٹرانک میڈیا اس موضوع کو مناسب اہمیت نہیں دے رہا ہے۔ اسی کے احتجاج میں پارٹی نے جمہوری طریقے سے اپنے اختلاف رائے کا اظہار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کانگریس کے مطابق، اگلے تین دنوں تک طے شدہ پریس کانفرنسوں کے علاوہ پارٹی کا کوئی بھی مجاز رہنما، ترجمان یا نمائندہ کسی ٹی وی ڈیبیٹ میں شامل نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا کو ذاتی طور پر کوئی آفیشل بائٹ بھی نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلے میں ہدایات صوبائی کانگریس کے سینئر رہنماوں، ارکانِ اسمبلی، صوبائی عہدیداروں، ترجمانوں، ضلع صدور، مختلف فرنٹل آرگنائزیشنز، محکموں، سیلز اور عوامی نمائندوں کو جاری کر دی گئی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande