اے ٹی ایم کارڈ بدل کر اکاونٹ سے پیسے نکالنے والے تین بدمعاشوں کے ساتھ پولیس کا انکاونٹر، ایک زخمی
نوئیڈا، 7 جون (ہ س)۔ تھانہ بیسرکھ پولیس نے ہفتے کی دیر رات ایک انکاونٹر کے دوران تین بدمعاشوں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کی طرف سے چلائی گئی گولی ایک بدمعاش کے پیر میں لگی ہے۔ یہ بدمعاش اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالنے والے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا کر
پولیس انکاؤنٹر میں زخمی بدمعاش


نوئیڈا، 7 جون (ہ س)۔ تھانہ بیسرکھ پولیس نے ہفتے کی دیر رات ایک انکاونٹر کے دوران تین بدمعاشوں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کی طرف سے چلائی گئی گولی ایک بدمعاش کے پیر میں لگی ہے۔ یہ بدمعاش اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالنے والے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا کر اور دھوکہ دہی سے ان کا اے ٹی ایم کارڈ بدل کر ان کے اکاونٹ سے موٹی رقم نکال لیتے تھے۔ ان بدمعاشوں نے 12 سے زائد وارداتیں کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سینٹرل زون شیلیندر کمار سنگھ نے بتایا کہ تھانہ بیسرکھ پولیس ہفتے کی دیر رات بیریئر لگا کر ایس کے اے چوراہے پر چیمنگ کر رہی تھی۔ تبھی گرین آرک سوسائٹی کی طرف سے آ رہی ایک موٹر سائیکل، جس پر تین لوگ سوار تھے، مشکوک نظر آنے پر پولیس نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بدمعاش رکنے کے بجائے موٹر سائیکل موڑ کر بھاگنے لگے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے بدمعاشوں کا پیچھا کر کے انہیں گھیر لیا۔ اپنے آپ کو پولیس سے گھرا ہوا دیکھ کر بدمعاشوں نے پولیس پارٹی پر جان سے مارنے کی نیت سے فائرنگ کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ جوابی کارروائی میں پولیس نے بھی فائرنگ کی۔ پولیس کی چلائی گئی گولی سالار پور کے رہنے والے سہیل ملک کے پیر میں لگی۔ پولیس نے زخمی حالت میں اسے گرفتار کر لیا ہے اور علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے دو دیگر ساتھی شعیب ملک اور راکیش کمار موقع سے فرار ہوگئے تھے، جنہیں پولیس نے کامبنگ (تلاشی مہم) کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے پاس سے پولیس نے دیسی طمنچہ، کارتوس اور چوری کی ایک موٹر سائیکل وغیرہ برآمد کی ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران گرفتار بدمعاشوں نے پولیس کو بتایا کہ یہ لوگ قومی دارالحکومت کے خطے (این سی آر) میں گھوم گھوم کر اے ٹی ایم مشینوں کو نشانہ کرتے ہیں۔ یہ بدمعاش اے ٹی ایم مشین میں کارڈ لگانے والی جگہ پر فیویکوک ڈال دیتے ہیں جس سے پیسے نکالنے والے شخص کا کارڈ پھنس جاتا ہے۔ یہ لوگ اے ٹی ایم مشین پر ایک پرچی لگا کر اس پر ہیلپ لائن نمبر لکھ دیتے ہیں، جو کہ ان کا اپنا ذاتی نمبر ہوتا ہے۔ جب لوگوں کا اے ٹی ایم مشین سے کارڈ نہیں نکلتا تو وہ مدد کے لیے اس موبائل فون نمبر پر بات کرتے ہیں۔ یہ لوگ تھوڑی دیر بعد وہاں پہنچتے ہیں اور پلاس و پچکس کی مدد سے اے ٹی ایم مشین سے کارڈ نکال کر، اسے بدل لیتے ہیں اور بعد میں پیسے نکال لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان بدمعاشوں نے اس طرح کی کئی وارداتیں کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande