
نئی دہلی، 05جون(ہ س)۔ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے دہلی کی وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا کے ساتھ مل کر آج عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے موقع پر پورے دہلی میں اٹھارہ ’نمو آکسیجن پارکوں‘ کا افتتاح کیا اور ملک گیر مہم ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ کے تحت ماحولیات کو بہتر بنانے کے کئی منصوبوں کا آغاز کیا۔ میدان گڑھی کے نمو آکسیجن پارک میں منعقدہ اس تقریب نے دارالحکومت دہلی میں شہر کو سرسبز بنانے، ہوا کے معیار کو سدھارنے اور عوامی شراکت داری سے فطرت کو بچانے کی مہم کو مضبوط کرنے کی طرف ایک بڑا قدم بڑھایا ہے۔اس تقریب میں شرکت کرنے والے دیگر معززین میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیرمملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ، دہلی کے وزیر ماحولیات، جنگلات و جنگلی حیات سردار منجیندر سنگھ سرسا اور مرکزی وزارت ماحولیات اور دہلی سرکار کے دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ آج انسانوں کو تین بڑے ماحولیاتی چیلنجوں کا سامنا ہے—موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کا خاتمہ اور زمین کا بنجر ہونا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ماحول کو بچانے کے کاموں میں دنیا کا رہنما بن کر ابھرا ہے۔ ہم نے کئی بڑے سنگ میل عبور کیے ہیں، جیسے شمسی توانائی بڑھانے میں دنیا کے چوٹی کے ممالک میں شامل ہونا، ’پی ایم سوریہ گھر یوجنا‘ پر عمل درآمد، انٹرنیشنل سولر الائنس کا قیام، انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے) کی شروعات، رامسر کے آبی مقامات کا دائرہ بڑھانا اور اقوامِ متحدہ کے طے شدہ ماحولیاتی اہداف کو وقت سے پہلے ہی حاصل کرنا۔مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ماحول کا تحفظ سب کی ملی جلی کوششوں اور عوام کی سرگرم شرکت سے ہی ممکن ہے۔ وزیر اعظم کی ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مہم نے شجرکاری کے کام کو ایک عوامی تحریک بنا دیا ہے، جس کی بنیاد ماں کے لیے شکر گزاری، ذمہ داری اور ماحولیاتی شعور پر ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صرف پودے نہ لگائیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ان کی پرورش اور حفاظت بھی کریں۔
دہلی کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب یادو نے بتایا کہ دہلی حکومت، ہوا کے معیار کے کمیشن(سی اے کیو ایم)کے ساتھ مل کر، ہوا کی آلودگی کی بڑی وجوہات—جیسے سڑکوں کی دھول، گاڑیوں کا دھواں اور کارخانوں کی آلودگی—کو روکنے کے لیے سرگرم اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں لگاتار آن لائن اخراج کی مانیٹرنگ سسٹم (او سی ای ایم ایس) لگانا، آلودگی پر قابو پانے والے جدید آلات (اے پی سی ڈیز) کا استعمال، سڑکوں کی گہری مشینی صفائی اور الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے استعمال کو تیزی سے فروغ دینا شامل ہے۔مرکزی وزیر نے واضح کیا کہ ’نمو ون‘اور اس جیسے دیگر ماحولیاتی اثاثوں کے ذریعے پورے ملک میں شہروں کو ہرا بھرا بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اسی سمت میں، دہلی میں اٹھارہ ’نمو آکسیجن پارک‘ تیار کر کے ان کا افتتاح کیا گیا ہے، جو شہر کے ماحول کو سبز رکھنے کا کام کریں گے۔ یہ پارک ہوا کے معیار کو بہتر بنائیں گے، پرندوں اور پودوں کی نسلوں کو تحفظ دیں گے اور شہریوں کے لیے سیر و تفریح کے مقامات فراہم کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان منصوبوں کی طویل مدتی کامیابی کے لیے عام لوگوں کا تعاون سب سے اہم ہوگا۔ جناب یادو نے مزید کہا کہ پورے ماحولیاتی نظام کی مکمل حفاظت اور قدرتی توازن کے لیے جنگلات، آبی ذخائر اور گھاس کے میدانوں کا ایک ساتھ مل کر تحفظ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔اس تقریب کے دوران دہلی حکومت کی طرف سے تیار کی گئیں ماحولیات سے متعلق تین اہم کتابوں کا بھی اجراءکیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan