
کولکاتا، 5 جون (ہ س)۔ کابینہ کی توسیع اور نئے وزراء کے درمیان قلمدان کی تقسیم کے بارے میں جاری بات چیت کے درمیان جمعہ کو مغربی بنگال میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ وزارتوں کو مختص کرنے کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری کے اچانک دہلی روانہ ہونے سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔
راج بھون میں منعقدہ حالیہ حلف برداری کی تقریب میں 35 نئے وزراء نے عہدہ اور رازداری کا حلف لیاتھا۔ اس کے بعد ریاستی کابینہ کی پہلی میٹنگ ہوئی جس کی صدارت وزیر اعلیٰ نے کی۔ اس ملاقات کے بعد یہ عندیہ دیا گیا کہ نئے وزراء میں قلمدانوں کی باضابطہ تقسیم جمعہ کو ہوگی۔
دریں اثناء جمعہ کی صبح سیاسی واقعات نے اچانک کروٹ لی۔ نوان کے قریبی ذرائع کے مطابق، شبھیندو قلمدان کی تقسیم کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی صبح 11 بجے کے قریب فلائٹ سے دہلی کے لیے روانہ ہو گئے۔
تاہم اس دورے کے مقصد کے حوالے سے انتظامیہ یا متعلقہ سیاسی جماعت کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔ اس نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے کہ یہ دورہ محض رسمی ملاقات نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے کسی بڑے سیاسی پیغام ہو سکتا ہے۔
غور طلب ہے کہ کابینہ میں توسیع کے بعد محکموں کی تقسیم کو لے کر پہلے ہیپس وپیش ہے۔ ادھر اس اچانک دورے نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
دراصل ، دہلی کا دورہ صورتحال کو مزید واضح کر سکتا ہے اور ریاست کی سیاسی سمت میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ دے سکتا ہے۔ فی الحال نہ تو ریاستی حکومت اور نہ ہی متعلقہ سیاسی پارٹی نے اس پوری پیش رفت پر کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ شبھیندو کے جمعہ کی دیر رات تک کولکاتا واپس آنے کی امید ہے۔ اب سب کی نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ ان کے دورہ دہلی کے بعد ریاست کے سیاسی مساوات میں کیا نیا موڑ آئے گا۔
ہندوستھان سماچار
-------------------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد